ڈیجیٹل دور میں روایتی کرپشن
آن لائن فراڈ، ہیکنگ، بلیک میلنگ، مالیاتی اسکیمیں اور میچوں پر آن لائن جوئے جیسے جرائم عام آدمی کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر 2024 میں حکومتِ پاکستان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے قیام کا اعلان کیا۔ اس سے قبل سائبر کرائم کے معاملات (ایف آئی اے) کے دائرہ اختیار میں تھے، مگر یہ مؤقف اپنایا گیا کہ ایک الگ اور خصوصی ادارہ وقت کی ضرورت ہے۔قیام کے وقت دعویٰ کیا گیا کہ یہ ادارہ جدید ڈیجیٹل فرانزک سہولیات سے لیس ہوگا، فوری کارروائی کرے گا اور متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کرے گا۔ عوام نے بھی اسے امید کی کرن سمجھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ امید پوری ہو سکی؟لاہور میں قائم دفتر کی صورتحال دیکھیں تو تصویر مختلف نظر آتی ہے۔ سائلین کا کہنا ہے کہ شکایات جمع کروانے کے بعد مہینوں تک کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔ کئی افراد کو بار بار دفتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ نہ مؤثر رہنمائی کا نظام ہے، نہ شفاف ٹریکنگ کا طریقہ کار۔ ایک ایسا ادارہ جو ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام کے لیے بنایا گیا ہو، اگر وہی روایتی سستی اور فائلوں کے بوجھ تلے دبا نظر آئے تو تشویش فطری ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور کا دفتر ایک نجی عمارت میں قائم ہے اور کرایہ جات کے معاملات بھی تنازع کا شکار ہیں۔ اگر واقعی کرایہ کی ادائیگی میں تاخیر یا بے ضابطگی موجود ہے تو یہ انتظامی کمزوری کی سنگین مثال ہے۔ جو ادارہ اپنے بنیادی مالی معاملات درست نہ رکھ سکے، وہ پیچیدہ مالیاتی سائبر جرائم کی مؤثر تحقیقات کیسے کرے گا؟صورتحال اس وقت مزید سنجیدہ ہو گئی جب لاہور کی ایک ٹیم پر آن لائن میچوں پر سٹے بازی کروانے کے الزام میں ڈگی بھا ئی سے مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزامات سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور انہیں عہدوں سے ہٹایا گیا۔ اسی نوعیت کی شکایات دیگر شہروں سے بھی سامنے آئیں۔ اگر ایک نیا ادارہ ابتداء ہی میں بدعنوانی کی زد میں آ جائے تو عوامی اعتماد بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ادارے کے دفاع میں کہا جاتا ہے کہ وسائل اور افرادی قوت کی شدید کمی ہے۔ بیشتر عملہ کنٹریکٹ پر ہے، مستقل سٹرکچر مکمل نہیں، جدید آلات کی کمی ہے اور کیسز کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ دلائل اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ جب مکمل تیاری نہیں تھی تو ادارہ جلد بازی میں کیوں قائم کیا گیا؟ کیا یہ اقدام زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیا گیا یا محض ایک انتظامی اعلان تھا؟سائبر کرائم کی نوعیت ایسی ہے کہ تاخیر خود ایک نقصان بن جاتی ہے۔ ڈیجیٹل شواہد وقت کے ساتھ ضائع ہو سکتے ہیں، رقم بیرونِ ملک منتقل ہو سکتی ہے، اور ملزمان شناخت بدل سکتے ہیں۔ ایسے میں مہینوں تک کیسز کا التوا دراصل متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ عام شہری پہلے ہی مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، اگر ریاستی ادارہ بھی فوری ریلیف نہ دے سکے تو اس کا اعتماد ٹوٹنا لازمی ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک دفتر یا چند افسران تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ نظامی ہے۔ کیا داخلی احتساب کا مؤثر ڈھانچہ موجود ہے؟ کیا شفاف آڈٹ کیا جا رہا ہے؟ کیا شکایات کے اندراج اور تفتیش کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اصلاحات ناگزیر ہیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ کیا وفاقی سطح پر ایک الگ ادارہ بنانا ہی حل تھا؟ اگر صوبائی پولیس کو جدید تربیت، ٹیکنالوجی اور اختیارات دے دئیے جاتے تو شاید مقامی سطح پر فوری اور بہتر نتائج حاصل ہو سکتے تھے۔ ایک مرکزی ادارہ جب پورے ملک کے کیسز سنبھالتا ہے تو بوجھ بڑھنا فطری ہے، اور نتیجہ تاخیر اور بدانتظامی کی صورت میں نکلتا ہے۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا قیام ایک اچھے مقصد کے تحت ہوا تھا۔ لیکن صرف نیت کافی نہیں، کارکردگی بھی دکھانا ہوتی ہے۔ مستقل بنیادوں پر بھرتیاں، مالی شفافیت، جدید فرانزک سہولیات اور مؤثر احتسابی نظام کے بغیر یہ ادارہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔عوام کو بیانات نہیں، نتائج چاہئیں۔ اگر ایک متاثرہ شہری کو انصاف کیلئے مہینوں انتظار کرنا پڑے، اگر اندرونی بدعنوانی کی خبریں گردش کریں اور اگر بنیادی انتظامی معاملات بھی حل طلب رہیں تو پھر سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔ حکومت کو سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا کہ آیا یہ ادارہ اپنی موجودہ شکل میں مؤثر ہے یا اسے ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت ہے ڈیجیٹل دور میں جرائم جدید ہو چکے ہیں، مگر اگر ان سے نمٹنے والا نظام روایتی کمزوریوں اور کرپشن کا شکار ہو جائے تو نقصان صرف ادارے کا نہیں بلکہ ریاستی اعتماد کا ہوتا ہے اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
