menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

نوائے پاشا

26 0
03.03.2026

ہمارے دوست انجینئر محمد انور پاشا اتنے دبلے پتلے اور دھان پان سے تھے کہ کلف لگے کپڑے والے ان سے ہاتھ ملانا بھی کسرِ شان سمجھتے تھے۔ پاشا صاحب خود بھی فرقہِ ملامتیہ کی طرح خود کو چھپائے رکھتے۔ کشفِ المحجوب میں حضرت علی ہجویری لکھتے ہیں کہ فرقہِ ملامتیہ کے ایک فقیر سے میں نے پو چھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو۔ تو اُس نے جواب دیا کہ لوگوں سے چھٹکارا پانے کے لئے۔میں نے اُسے بتایا کہ خرابی اُن کے دیکھنے سے نہیں بلکہ تمھارے دیکھنے سے ہے۔ دھیان اگر لوگوں سے پوری طرح ہٹ جائے تو پھر آدمی نہ عمل اُن کے لئے کرتا ہے اور نہ ترک ِ عمل اُن کے لئے۔ ہم یہ قصہ پاشا صاحب کو تو نہ سُنا سکے البتہ اُن سے یہ درخواست ضرور کی کہ وہ نہا دھو کر جو کپڑے زیب ِ تن کریں اُن پر استری پھیر لیا کریں۔ پاشا صاحب نے قدرے پس و پیش کے بعد ہماری درخواست منظور کر لی اور آئندہ کے چھ ماہ جو اُنھوں نے ہمارے ساتھ گزارے اُن میں اپنے بناو سنگھار کا خیال رکھتے رہے، اس سادگی اور سادہ لوحی کے ساتھ اُن کا شکاگو یورنیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری اور وہ بھی امتیازی نمبروں سے پاس کر لینا نا قابلِ یقین سا لگتا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سعودیہ چلے گئے جہاں مختلف کمپینوں میں کنسلٹینسی کا کام کرتے رہے۔ اُنھوں نے دو شادیاں کیں۔ پہلی کا تعلق کراچی اور دوسری کا سعودیہ سے ہے جو عربی ہیں۔ اللہ نے اُنھیں ایک بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا۔ جنرل ضیا شہید جب بھی سعودیہ جاتے من جملہ اور پاکستانیوں کے پاشا صاحب........

© Daily Pakistan (Urdu)