menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

غازی احمد ؒسے ملاقات

22 0
24.02.2026

غازی احمد نے اپنے مشرف بہ اسلام ہونے کا واقعہ اس طرح سنایا ”نبی ِ کریمؐ دیوارِ کعبہ سے تکیہ لگائے میرے سامنے جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے ارد گرد صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین تشریف فرما ہیں۔ میں والہانہ جذبہء شوق سے صحابہ کرام سے گزرتا ہوا بارگاہِ اقدسؐ کے پاس پہنچااور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھائے۔ نبی کریمؐ نے اُٹھ کر اپنے مبارک ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ جس سے میرے رگ و ریشہ میں مسرت و شادمانی کی ایک لہر دوڑگئی۔ فرمایا ، کیسے آئے ہو؟  مشرف بہ اسلام ہونے آیا ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ آپ ؐنے میرا ہاتھ اپنے مقدس ہاتھوں میں تھام کر کچھ پڑھا جسے میں سمجھ نہ سکا۔ پھر فرمایا:”اب تم دولت ِ اسلام سے بہرہ ور ہو گئے ہو۔“صبح آنکھ کھلی تو میرا دل خوشی اور مسرت کے جذبات سے معمور تھا۔ بعد ازاں میں نہا دھو کر سیدھا مسجد میں داخل ہوا اور مولانا عبد الروف کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ آپ نے میرا نام غازی احمد رکھا۔

غازی کے قبولِ اسلام کی خبر اُن کے گھر والوں اور دیگر عزیز و اقارب کو ملی تو ہر طرف کہرام برپا ہو گیا۔ اُنھیں دینِ اسلام سے بر گشتہ کرنے اور واپس ہندو بنانے کے لئے ہر ترکیب آزمائی گئی مگر کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ تو اُن پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی۔ ایک بار تو والد نے چھڑی سے اس قدر پیٹا اور ٹھڈوں سے دھنائی کی کہ آپ کا پورا جسم لہو لہان اور کپڑے خون میں لت پت ہو گئے اور وہ کئی دن بسترِ مرگ پر پڑے رہے۔ اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا تو حوصلہ ہار جاتا۔ مگر نبی ِ کریم ؐکی دعاوں نے........

© Daily Pakistan (Urdu)