menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

  استحصال کی بدترین مثالیں 

24 0
13.02.2026

میں نے اُس کی نظروں میں عجیب قسم کی بے بسی اور وحشت دیکھی، بے بسی اور وحشت کا جہاں ملاپ ہو جائے نتیجہ خطرناک نکلتا ہے۔میں جونہی بنک سے نکلا، مجھے سکیورٹی گارڈ نے پکارا ”جناب نسیم شاہد ہیں“،میں نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا، اُسے میرا نام کیسے معلوم ہے، پھر اُس نے کہا سر میں آپ کا فیس بُک فرینڈ ہوں۔ آپ کا کالم فیس بُک پر روزانہ پڑھتا ہوں۔ میں نے کہا اچھا اچھا، یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہنے لگا سر ہم پر ایک احسان تو کر دیں۔لہجہ اِس قدر ملتجیانہ تھا کہ میں ہمہ تن گوش ہو گیا،اس نے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد راز دای سے کہا، ہم گارڈز پر ایک کالم تو لکھ دیں،ہم خود تو آواز نہیں اُٹھا سکتے، سکیورٹی کمپنیاں اگلے دن نکال دیں گی، ہمارا بری طرح استحصال ہو رہا ہے۔ بیس بائیس ہزار تنخواہ ہے وہ بھی تین تین ماہ نہیں ملتی، جبکہ یہ کمپنیاں بنکوں اور دیگر اداروں سے اپنا معاوضہ بروقت وصول کر لیتی ہیں، پھر اُس نے اپنے ہاتھ میں پڑی گن دِکھا کر کہا سر اِس ہتھیار کے ساتھ بندھے کا ٹھنڈے دماغ والا ہونا ضروری ہے وگرنہ مایوسی اور غصے میں آیا ہوا شخص اسے دوسروں پر استعمال کر لیتا ہے یا خود کو مار دیتا ہے۔یقین کریں میں اُس کی بات سے ہل کر رہ گیا۔ واقعی یہ تو بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ایک شخص کے پاس گن ہے اور پریشانی اور اذیت میں مبتلا ہے۔اُسے اپنے بچوں کی روٹی دال کا غم ہے یا دیگر مالی پریشانیاں ہیں تو وہ کس طرح کی کشمکش کا شکار ہو سکتا ہے، کسی کے پاس سوچنے کی فرصت نہیں، میرا مشاہدہ ہے اور آپ نے بھی کِیا ہو گا، کسی گارڈ کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہوتی۔وہ ایک اذیت،ایک پریشانی اور اضطراب میں مبتلا نظر آتا ہے۔حکومت اور بہت کچھ کرنے........

© Daily Pakistan (Urdu)