”پہلے آئیے،ندامت پائیے“
مدت سے زمانے کا چلن بھی وہی تھا اور اس کی عادت بھی قائم دائم تھی۔نہ ہی لوگ بدلے تھے،نہ ہی وہ۔ تقریب کوئی بھی ہو، ہر بار جا کر یہی گنگنانا پڑتا تھا ”پہلے آئیے، ندامت پائیے“۔ مدتوں کے تجربے کے باوجود وہ خود کو وقت پر پہنچنے سے روک نہیں پاتا تھا۔توقع کی جا سکتی تھی کہ اس دفعہ صورتحال ماضی سے مختلف ہو گی کیونکہ مدعو کرنے والے وہ استاد محترم تھے جو تعلیمی ادارے میں اپنے شعبے کے سربراہ رہے تھے اور پابندی وقت کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ استاد محترم بنفس نفیس اپنے شاگرد رشید-شاگرد کا نام رشید ہر گز نہیں تھا۔ کو مدعو کرنے آئے تھے۔ ان کی دختر نیک اختر کی شادی تھی۔استاد مکرم نے اپنے مخصوص لہجے میں فرمایا:”بیٹا بارات ایک بجے آ جائے گی، کچھ رسمیں ہوں گی، آپ تین بجے ضرور آ جائیے گا، ہم نے چار بجے ہر قیمت پر رخصتی کر دینی ہے۔ دفتری مصروفیات ہیں آپ کی، بس ہمیں آپ کا ایک گھنٹہ ہی چاہئے“۔ اس نے وعدہ کیا، دل سے پختہ ارادہ کیا اور عین تین بجے جا پہنچا۔صورتحال درحقیقت مختلف تھی، حیران کن تھی۔میرج ہال میں ابھی تک استاد مکرم بھی تشریف نہیں لائے تھے اور نہ ہی کوئی شخص میزبان کی طرف سے مہمانان گرامی کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ اس نے خود ہی اپنا استقبال کیا، اولیت کا شرف حاصل کیا اور منہ پکا کر کے تشریف رکھ........
