عاصمہ جہانگیر کانفرنس:ویلڈن رانا ثناء اللہ
عاصمہ جہانگیر کانفرنس ایک اچھا علمی و سیاسی لوگوں کا اکٹھ ہوتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ شخصیت تھیں۔ آزاد اور لبرل خیالات کی حامی تھیں۔ مذہب دشمن بھی تھیں، سیکولر ہونا، مذہب دشمن نہیں ہوتا۔ سیکولر ازم تو مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیتا ہے۔ ریاست سے الگ رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ ہمارا ملک آئینی ہے یہ آئین دین اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے۔ آئین تابع ہے اللہ کی حاکمیت کا، قرآن کا اور سیرت محمدیؐ کا۔ اس لئے یہاں کوئی بات اللہ اور اس کے نبی محمد عربیؐ کے احکامات کے برعکس نہ کہی جا سکتی ہے اور نہ ہی پنپ سکتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر صاحبہ بہت کچھ ہونے کے باوجود آئین کی اس تعبیر کی منکر تھیں ان کے بعد ان کے نام پر ہر سال منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں بھی اس قسم کے لوگوں بشمول سیاستدانوں، صحافیوں، دانشوروں کی اکثریت شامل ہو کر تقریریں کرتی ہے۔ ریاست کے خلاف باتیں کرتی ہے اس دفعہ بھی لاہور میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں ایسے ہی لوگ جمع تھے جنہوں نے بڑے بلند آہنگ میں پاکستان کی ریاست و سیاست کے خوب لتے لئے۔محمود خان اچکزئی ہوں یا اختر مینگل و دیگر انہوں نے ریاست کے خلاف باتیں کیں دہشت گردوں کے خلاف ریاست پاکستان کے عزم بالجزم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ریاست ایک عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ ریاست پر تنقید کرنا درست ہے یا نہیں، لیکن جس طرح ان لوگوں نے تنقید کی وہ کسی طور بھی درست یا جائز تسلیم نہیں کی جا سکتی، دہشت گردوں نے پاکستان کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ کے پی اور بلوچسان میں ایک وحشت کا سماں ہے۔ پاکستان کے دشمن بھارت و اسرائیل ان دہشت گردوں کے پشتبان ہیں۔ افغانستان ان کی پناہ گاہ ہے طالبان افغانستان ان کے ممدومددگار ہیں۔7ارب ڈالر کا افغانستان میں........
