پابندی یا منصوبہ بندی؟
پاکستان کی تاریخ اور موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ اس ملک میں مسائل کا حقیقی اور دائمی حل تلاش کرنے کے بجائے پابندیاں عائد کرنا آسان سمجھا گیا ہے۔ جہاں مسئلہ پیدا ہوا، وہاں منصوبہ بندی کے بجائے دفعہ 144، نوٹیفکیشن یا مکمل بندش نافذ کر دی گئی، اور نتیجہ بہتری کے بجائے بگاڑ، سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کی بے تحاشا تعداد اور بدترین ٹریفک دیکھ کر مجھے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ایک دن حکومت موٹر سائیکلوں پر ہی پابندی لگا دے، لیکن اس کی متبادل پالیسی بنانے یا سوچنے کی کہیں ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے،چند بڑے شہروں کے سوا نہ مناسب شہری پبلک ٹرانسپورٹ موجود ہے اور نہ ہی بین الاضلاعی سفر کے لئے کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مناسب پبلک ٹرانسپورٹ کا بندوبست ہے، منصوبہ بنانا مشکل اور وقت طلب کام ہے، جبکہ پابندی فوری اور آسان حل سمجھ لی جاتی ہے۔
پہلا ٹی ٹوئنٹی، جنوبی افریقی ویمن ٹیم نے پاکستان کو شکست دے دیکراچی کے ساحل پر چند حادثات ہوئے تو سمندر کے بیچ تک جانے پر پابندی لگا دی گئی، مینارِ پاکستان سے ایک شخص کے کودنے کے بعد مینار کے اوپر چڑھنے پر پابندی عائد ہو گئی۔ پتنگ بازی میں دھاتی ڈور سے چند جانیں گئیں تو پورے تہوار پر پابندی لگا دی گئی۔ کہیں........
