menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

   سید تنویر سبطین نقویؒ۔۔۔ خالق کے برگزیدہ آدمی

19 0
11.02.2026

منزل بسم اللہ کہتی ہو، رستہ عزت برکت دے

راہِ وفا کے ہمسفروں کو مولا عزت برکت دے

اس شعر کو پڑھتے ہوئے اس بات کا گماں ہوتا ہے کہ یہ کسی عام شخص کا نہیں ہو سکتا بلکہ ایک ایسے شخص کے قلم سے عطا ہُوا ہے جو وقت کا ولی اور زمانے کی نظر میں فقیر ہو۔ میری مراد مخدوم سید تنویر سبطین ؒ شاہ نقوی جو ایک صوفی، درویش منش شخصیت کے حامل تھے۔اُن کی ساری زندگی مخلوق کی خدمت اور اپنے خالق کے ذکر میں گزری اور کبھی بھی اپنے خالق سے شکوہ نہیں کیابلکہ فقیر ہوتے ہوئے اپنے خالق کی نعمتوں کا شکر ادا کیااور کہا کہ ”وہ جو میرے لئے ہیں وہ جن کے لئے میں ہوں میرا رب ان کے مسائل پر ان کے وسائل کو غالب رکھے۔“

پہلا ٹی ٹوئنٹی، جنوبی افریقی ویمن ٹیم نے پاکستان کو شکست دے دی

مخدوم سید تنویر سبطین ؒ کا یہ فرمان ہمیں اپنی فکر چھوڑ کر دوسروں کی فکر کرنے کی تلقین دیتا ہے۔میں نے ایک دفعہ کسی فقیر سے سوال کیا کہ کیا فقیر مانگنے والے کو کہتے ہیں؟ میرے اس سوال کا جواب کچھ یوں ملا کہ بیٹا فقیر دنیا سے کیا مانگے گا جس نے خود دنیا کو ٹھکرا دیا ہو، فقیر تو اللہ کو اپنا محبوب سمجھتا ہے اور زندگی بھر اُس کی راہ میں خود کو وقف کر دیتا ہے۔میرے سوال کا جواب دینے کے بعد وہ فقیر چلا گیا اور پھر کبھی میرے پاس نہیں آیا مگر اُس کا جواب میرے علم میں اضافہ کر گیا۔سید تنویر سبطینؒ نقوی ایک بے مثل شاعر تھے انہوں نے اپنے شعری مجموعے کا نام ”میں ابھی زندہ ہوں“ رکھا جس کے انتساب........

© Daily Pakistan (Urdu)