داغِ الم! جس کی تلافی ہو نہیں سکتی!
دِل خون ہو جائے تو خون کا آنسو بن کر آنکھوں سے بہہ جانا لازمی ہو جاتا ہے۔ارضِ وطن میں دردِ دِل رکھنے والے ہر مرد و زن کو ایسے تڑپا دینے والے جان لیوا حالات سے واسطہ پڑا ہے، سبھی کے دِل خون ہوئے اور ہر آنکھ سے خون کے آنسوؤں کی برسات ہوئی۔ایک ”غٹر غوں“ کرنے کی عمر میں ہنستی مسکراتی ہوئی بھولی بھالی معصوم بیٹی اپنی ماں کی گود ہی میں ہولناک حالات میں ملک ِ عدم سدھار گئی۔ کہنے کو تو دونوں ماں بیٹی ایک ساتھ بیرون بھاٹی گیٹ سیوریج کے ڈھکن کے بغیر کھلے مین ہول میں گر گئیں، گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کھلا مین ہول ماں بیٹی کے لئے موت کا اندھا کنواں ثابت ہوا، بیٹی ماں کی گود میں تھی، ہر دِل اس پر خون ہو گیا کہ ماں۔ ماں تو عالم کی ماں ہوتی ہے، بیٹی قوم کی بیٹی!! دِل خون کر دینے والے اس عہد کے ماتم کدے میں ایسے حالات و واقعات نے سوگ کی عین گہرائیوں میں ڈبو کر مزید غمناک بنا کر رکھ دیا ہے جن کے درد کی ٹیسیں قوم مدتوں محسوس کرتی رہے گی۔ اس دردناک واقعہ کی کوکھ سے ملک بالخصوص پنجاب کے اربابِ اختیار کے لئے لمحہ ئ فکریہ نے جنم لیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ متاثرہ خاندان شورکوٹ سے لاہور کی سیر کے لئے آیا تھا۔ اس کے لوگ مینارِ پاکستان کے بعد دربار داتا گنج بخشؒ کے مزار مبارک پر آئے تھے۔اِس دوران ماں اپنی نو ماہ کی بیٹی کو گود میں اٹھائے تھی کہ اندھیرے میں کھلے مین ہول میں........
