برما۔ مسلمانوں کی مقتل گاہ۔۔۔
چند ہفتے پہلے برما کے وزیرخارجہ اسلام آباد وارد ہوئے تو انہیں حکومتی عہدیداروں نے خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایا کہ برما کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔جب یہ منظر میں ٹی وی پر دیکھ رہا تھا تو خون کے آنسو رو رہا تھا کہ مجھ جیسے ایک عام پاکستانی کو علم ہے کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اس قدر وحشت ناک اور درندگی کا مظاہرہ کیا گیا کہ تاریخ کے صفحات بھی مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکے ہیں۔ ممتاز ادیب اور کالم نگار فاروق عزمی نے مجھے ایک کتاب لاکر دی جس کا عنوان تھا "مسلمانوں کی قتل گاہ۔۔۔ برما "۔میں نے جیسے ہی وہ کتاب پڑھنا شروع کی تو میرا پورا جسم خوف و ہراس سے لرزنے لگا کہ برمی فوج روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اس قدر وحشت ناک سلوک کررہی ہے کہ میرے پا س وہ الفاظ نہیں کہ ان واقعات کا لفظوں سے اظہار کرسکوں۔مجھے حکومت پاکستان کی بند آنکھوں پر بھی افسوس ہوتا ہے کہ وہ فلسطینی اور کشمیری مسلمانوں کے حق میں تو آواز اٹھاتے ہیں، لیکن نہ جانے کون سا خوف ان کے دامن گیر ہوچکا ہے کہ برما میں ہونے والے مسلمانوں کے مظالم کی جانب سے ان کی آنکھیں بند ہیں۔نبی کریمؐ کا ارشاد پاک ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ فاروق عزمی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ برما میں قتل عام ہورہا تھا، گھر جلائے جارہے تھے، مسلمان بچوں کو بیدردی سے ذبح کیا جارہا تھا،عورتوں کو برہنہ کرکے عصمت دری کے بعد درختوں اور بانسوں کے ساتھ باندھ کر زندہ جلایا جارہا تھا۔ دو اڑھائی سال کے معصوم بچوں پر پورا وزن ڈال کر اس وقت کھڑے رہنا جب تک وہ تڑپ تڑپ کر مر نہیں........
