دو جانیں، ایک انکوائری: کیا پولیس پر دباؤ نے انصاف کا راستہ بدل دیا؟
میں نے اس شہر میں بہت سے مقدمات بنتے اور بکھرتے دیکھے ہیں،مگر کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو فائل بند ہونے کے بعد بھی ضمیر پر کھلی رہتی ہیں۔یہ کہانی بھی ایک اغواء سے شروع ہوئی۔ ایک عورت لاپتہ ہوئی اور تفتیش نے سرگودھا، ہری پور اور کراچی کے راستے دکھائے۔ڈیٹا نے بولنے کی کوشش کی،بیانات نے خود کو بچانے کی،اور قانون نے اپنے ہاتھ باندھ کر سب دیکھا۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ فریحہ ملک کچھ وقت شوہر سمیت خودکشی کرنے والی سرگودھا کی رہائشی طیبہ کے پاس رہی۔یہ بات تسلیم شدہ ہے۔مگر آگے کیا ہوا، یہی سوال ہے۔سیال موڑ کا ذکر آیا،مگر لوکیشن خاموش رہی۔عدالت آئی، عبوری ضمانت ملی،اور پولیس کے قدم قانون نے روک دیے۔پھر ایک دن تیزاب کی بو نے اس کہانی کو........
