menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

      میں یومِ یکجہتی مناؤں یا بسنت؟

30 1
09.02.2026

زندگی کے بعض مراحل پر پتا ہی نہیں چلتا کہ آدمی لوگوں سے معمول کی شگفتہ مسکراہٹ کے ساتھ ملے یا منہ پر سنجیدگی اوڑھ لے۔ اب سے تین دن کے اندر مَیں بھی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے ذیلی اجلاس میں کرسی ئ صدارت پر فائز ہو کر چہرہ نمائی کی آزمائش سے دوچار ہونے والا ہوں۔ ’بین الاقوامی‘ تو یونہی کہہ دیا۔ ورنہ آج کل کون سا اجلاس ہے جو اعلی سطحی نہ ہو یا کونسی کانفرنس ہے جس کے ساتھ انٹرنیشنل کا سابقہ نہ لگے؟ کچھ بھی کہیں، امتحان اُس وقت شروع ہوتا ہے جب پہلے تو کہا جائے کہ آپ کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پھر ساتھ ہی ایسے اسمائے صفت برتے جانے لگیں جن کی تردید کرنے کو دل نہ مانے، پر جانتے سبھی ہوں کہ یہ حُسن ِ نیت سے زیادہ مصنوعی ذہانت کا کمال ہے۔

ایرانی نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو ساڑھے 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی

ہو سکتا ہے کہ سٹیج پر بیٹھ کر جھینپنے کی عادت محض میری ناتجربہ کاری ہو۔دیکھیے نا،جو مقبول و معروف ہستیاں تقریب گاہ کے طول و ارض، سامعین کے قومیتی یا طبقاتی رتبے بلکہ موضوع کی نوعیت پر دماغ کھپائے بغیر خطاب کرنے پہ قادر ہوں اُنہیں تو اپنی شکل کے زاویہ نگاہ کا مسئلہ کبھی درپیش نہیں ہوتا۔ نئے دَور کے وی لاگر، خوش وضع ٹی وی نیوز ریڈر، مقتدر سیاسی رہنما سب اِسی ذیل میں آتے ہیں۔یہاں تک کہ اگر تلفظ کی کوئی بڑی غلطی ہو جائے تو بطور وضاحت بھرپور اعتماد کے ساتھ کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ جیسے کہنا چاہتے ہوں کہ ”ہم ہمیشہ سے اِسی طرح بولتے آئے ہیں، آپ براہِ ِکرم اپنی لغت درست کر لیجیے۔“ یہ حکم سر آنکھوں پر، لیکن محض تفریح کی خاطر یومِ یک جہتیء کشمیر کی چھٹی بسنت ویک اینڈ کے ساتھ جوڑ لینے کے سرکاری حکم پر میرے لیے اپنی لغت کو درست کرنا آسان نہیں تھا۔

بھارت سے میچ کھیلنے کا معاملہ: آئی سی سی کی درخواست پر محسن نقوی نےوزیر اعظم سے دوبارہ رابطے کا فیصلہ کر........

© Daily Pakistan (Urdu)