وزیراعظم کا دبنگ اعلان اور کرکٹ کا مستقبل؟
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی20ورلڈکپ میں بھارت کی ٹیم کے ساتھ نہ کھیلنے کے فیصلے پر مزید زور دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے کھیل میں بھی سیاست لائی گئی،اِس کے بعد وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھی خبردار کیا کہ بھارت جس لہجے میں بات کرے گا اُسے اُسی طرح سخت جواب دیا جائے گا۔
جہاں تک ورلڈکپ کا تعلق ہے تو اِس حوالے سے پاکستان کا فیصلہ بنگلہ دیش کے حوالے سے ہے کہ بنگلہ کرکٹر مستفیض الرحمن کو نہ صرف کلکتہ نائٹ رائیڈر سے نکالا گیا، بلکہ سرکاری عمال نے دھمکی بھی دی کہ اسے ایئر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا جائے گا،اس کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کا تحفظ مانگا اور آئی سی سی سے اپیل کی کہ ٹیم کو درپیش خطرے کے پیش نظر اِس کے بھارت میں شیڈول میچ بھی سری لنکا منتقل کر دیئے جائیں۔ آئی سی سی کی طرف سے مثبت جواب کی بجائے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا اور درخواست مسترد کر دی،جس کے بعد بنگلہ دیش بورڈ نے بھارت جانے سے انکار کر دیا اور آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو ورلڈکپ سے نکال کر اُس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو دے دی،اس صریحاً ناانصافی اور بھارت کی مسلسل متعصبانہ پالیسی کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ کی وزیراعظم سے مشاورت ہوئی اور بورڈ کے چیئرمین کی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان بورڈ بھارت کے ساتھ گروپ میچ کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے۔اِس خبر کے بعد آئی سی سی کی طرف سے کوئی مثبت بات کرنے کی بجائے دھمکی آمیز انداز میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے جواب طلبی کی گئی وجہ صاف ظاہر ہے کہ آئی سی سی کے چیئرمین بھارتی بورڈ کے سابق چیئرمین ہیں اور آئی سی سی بھارت کے زیر اثر ہے،چنانچہ جب احتجاج کا مثبت جواب نہ ملا تو حکومت ِ پاکستان نے فیصلہ کر کے اعلان کر دیا کہ پاکستان کی ٹیم........
