مذہبی سیاست کی ضرورت!
تاخیر کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بحیثیت اپوزیشن لیڈر سینیٹ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ایم ڈبلیو ایم کی سینیٹ میں صرف ایک نشست ہے، لیکن حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف نے ان پر اعتماد کیا اور انہیں اپنا لیڈر مان لیا۔یہ نامزدگی سینیٹرشبلی فرازکی نااہلی کے بعد سامنے آئی، اسی طرح کا انوکھا فیصلہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں بھی کیا۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کواپوزیشن لیڈر بنادیا گیا، وہ بھی اپنی پارٹی کے اکلوتے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ دونوں فیصلو ں کی وجوہات قابل فہم ہیں،مذہبی جماعتوں کی سیاست قیام پاکستان سے پہلے کی ہے، لیکن راجہ ناصر عباس جعفری جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں،اس کے علماء اورمذہبی قیادت نے 1988ء سے پہلے تک انتخابی سیاست کو شجر ممنوعہ قرار دیے رکھا۔ یہ تو علامہ عارف حسین الحسینی تھے جنہوں نے 6جولائی1987ء کی قرآن و سنت کانفرنس مینارِ پاکستان لاہور میں اعلان کیا کہ آئندہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ عملی سیاست کرے گی،انتخابات میں حصہ لے گی، اورامیدوار کھڑے کرے گی۔ ابتدائی طور پر سیاسی فکرو شعور سے گریزاں ملت جعفریہ کو قائل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پرانی فکر کے کچھ علماء خاص طور پروہ ذاکرین اور خطباء جو پیپلز پارٹی کی طرف رجحان رکھتے تھے انہوں نے مخالفت کی اور الزام عائد کیا کہ ضیاء الحق کی مارشل لا کے خلاف جدوجہدکو کمزور کرنے اور پارٹی کے ووٹ بینک کوتقسیم کرنے کے لئے ٹی این ایف جے کو سیاست میں لایا گیا ہے، لیکن اس کا حقیقت حال سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حالات سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی تھی،آج وہ لوگ جو اس وقت لڑکپن میں تھے یا بچے تھے........
