menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

  شوکت اشفاق کے لئے پُرسہ

20 0
08.02.2026

شوکت اشفاق کی جب بھی کال آتی ہے عموماً بات قہقہوں سے شروع ہوتی ہے، مگر جمعرات کی صبح جب اُن کی کال آئی تو دوسری طرف سے رونے اور ہچکیوں کی آواز آتی رہی، میں نے کہا ”کج دسو تے سہی کی ہویا“۔ شوکت اشفاق نے مشکل اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا میری ماں جیسی بڑی بہن کا اچانک انتقال ہو گیا ہے۔اُن کا نام ڈاکٹر مسرت نسیم تھا۔ وہ حال ہی میں سینئر گائنالوجسٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئی تھیں۔ آپ اس کی سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا دیں، مجھ سے مزید بات نہیں ہو رہی۔فون بند ہوا تو میں سوچنے لگا۔ یہ وقت واقعات کو کس طرح ہو بہو دہراتا ہے۔ تقریباً آٹھ ماہ پہلے میری بڑی ہمشیرہ منور سلطانہ کا اسلام آباد میں انتقال ہوا تو میں نے اسی طرح شوکت اشفاق کو فون کیا تھا اور ہچکیوں کے ساتھ بتایا تھا،بہن انتقال کر گئی ہیں،آپ پوسٹ اور روزنامہ ”پاکستان“ میں خبر لگا دیں اور فون بند کر دیا تھا۔بہن کی وفات پر مجھے احساس ہوا تھا کہ یہ کتنا بڑا اور دِل گداز رشتہ ہے، ویسے تو ہر پیارا جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو جان کنی کا عالم ورثاء پر طاری ہو جاتا ہے تاہم بعض رشتے ایسے ہیں جن کے جانے کی کسک کبھی نہیں جاتی،ان میں ایک رشتہ بہنوں کا بھی ہے۔خاص طور پر وہ بہن جو بڑی ہو ماں کی وفات کے بعد ماں کا درجہ حاصل کر لیتی ہے،اُس کے پیار میں سچ ہی سچ ہوتا ہے،کوئی کھوٹ نہیں ہوتی۔میری بہن کی طرح شوکت اشفاق کی بھی بڑی بہن دنیا سے رخصت ہوئیں، پھر بلاوا بھی اچانک آ گیا۔ وہ رات کو بالکل ٹھیک تھیں، صبح ہوئی تو دِل کا دورہ جان لے گیا، اس سے بڑی قیامت کوئی نہیں ہوتی،جب کوئی ایسا پیارا اچانک چھوڑ جائے جس کے جانے کا وہم وگمان بھی موجود نہ ہو، میں سوچ رہا ہوں یہ اطلاع جب شوکت اشفاق کو ملی ہو گی تو اُن........

© Daily Pakistan (Urdu)