menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

   گناہ تم کرو بخشش میں کرواؤں 

19 0
07.02.2026

نتھو کا باپ جیسا بھی تھا مرگیا، آخر کار سب کو ایک دن مر ہی جانا ہے۔ نتھو کا باپ غریب آدمی تھا ورثے میں نتھو کے لئے فکریں اور وصیتیں چھوڑ گیا، اس نے نتھو کو وصیت کی تھی میں مر جاؤں تو میری قبر پر پورے دس دن قرآن خوانی کروانا، ادھر نتھو کا باپ مرا ادھر نتھو کی فکریں بڑھ گئیں، کفن دفن تو چلو جیسے تیسے ہو جائے گا لیکن قبر پر دس دن قرآن خوانی کیسے ہوگی، نتھو کو اس کی فکر تھی۔ سوئم اور چالیسویں کی رسمیں الگ، نتھو کا دل کیا وہ برادری میں اعلان کردے کہ وہ اپنا مسلک بدل چکا ہے، اس سے کم از کم سوئم اور چالیسویں کا خرچہ تو بچ جائے گا، لیکن شریکے سے ڈر گیا وہ کیا کہے گا۔ جس باپ نے پال پوس کر جوان کیا، شادی کی، اس کا ختم بھی نہ دلا سکا۔ سوئم کی رسم کے لئے نتھو نے نو بیاہتا بیوی کے ہاتھ سے انگوٹھی جو اس کی شادی کا واحد زیور تھی اتار کر بیچ دی۔ شریکے سے کوئی اس کے لئے کچھ نہ بولا، کسی نے اس کی جھوٹے منہ تعریف نہ کی۔ سب نے سیر ہو کر ختم کا پھل کھایا اور کھانے میں نقص نکالے۔ نتھو کو بار بار خیال آرہا تھا اس کے باپ نے اسے اپنی قبر پر دس دن قرآن خوانی کروانے کا کہا تھا، اس کے لئے نتھو مسجد کے مولوی صاحب کے پاس گیا۔ مولوی صاحب کہنے لگے بچے تو قبر پر قرآن پڑھنے چلے جائیں گے لیکن کیا تم اس کا ہدیہ دے سکو........

© Daily Pakistan (Urdu)