طلبہ یونین کے انتخابات سے راہِ فرار کیوں؟
بلدیاتی نظام کو جہاں سیاست کی نرسری قرار دیا جاتا ہے وہاں طلبہ کے جمہوری حق اور طلبہ یونین کے انتخابات کو سیاست کی نرسری قرار دیا جاتا ہے۔ 9فروری1984ء سے اگر9فروری2026ء تک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے 42سال سے زائد عرصہ میں جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں نے نعرے لگانے کی حد تک تو طلبہ سیاست پر بات کی اور اہمیت پر بھی زور دیا، مگر عملاً خوف سے نجات نہ پا سکے اس پر بہت کچھ لکھا اور شائع کیا جا چکا ہے، مگر سیاسی پنڈت بلدیاتی نظام سے اس لئے خوفزدہ ہیں کہ گراس روٹس لیول پر عوام میں شعور آتا ہے نچلی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہونا شروع ہو جاتے ہیں گراس روٹس ہی دراصل سوشل سروسز کی بنیاد ہے اور انہی بنیادوں سے جو خدمت کرتے سیاستدان مرحلہ وار یونین کونسل کے کونسلر سے ناظم، نائب ناظم، چیئرمین، وائس چیئرمین بنے وہی آگے بڑھ کر قد آور شخصیت کے طور پر نہ صرف اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب رہے،بلکہ ان کا اندازِ فکر عوامی درد اور کام کرنے کا انداز بھی مختلف نظر آتا ہے اس میں اگر ملک کے چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیرکے بلدیاتی نظام سے پروان چڑھنے والے سیاستدانوں کا نام لکھنا شروع کر دوں تو میرے سامنے طویل فہرست موجود ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے قوم کے لئے آئین سازی کا فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ایک دفعہ وطن عزیز میں امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے بی اے کی شرط عائد کر دی گئی تو پوری پاکستانی قوم نے دیکھا80فیصد سیاسی پنڈت........
