بسنت
ایک وقت تھا جب جاڑوں کے اختتام پر لاہور کے آسمانوں پر پھول کھلتے تھے اور رنگوں کی برسات ہوتی تھی۔ بسنت کے ایک دن میں اتنی پتنگیں اڑائی جاتی تھیں کہ باقی364 دنوں میں اڑائی جانے والی کل پتنگوں سے زیادہ ہوتیں۔ تب بسنت کی تاریخ کا اعلان کئی دن پہلے کر دیا جاتا تھا اور جس دن اعلان ہوتا تھا اسی دن سے ہماری تیاریاں بھی شروع ہو جاتی تھیں۔ہماری مطلب ہم سب لاہوریوں کی۔ ہمیں سکول اور بعد ازاں کالج کے لیے بھی جو جیب خرچ ملتا تھا اس میں سے کچھ پیسے بچا کر ہم نے پہلے ہی الگ رکھے ہوتے تھے کہ بسنت کے موقع پر گڈیاں اور پتنگیں خریدیں گے اور انجوائے کریں گے۔ بسنت سے ایک دن پہلے والد صاحب سے کچھ اضافی پیسے بھی مل جاتے تھے اور ہم ان سارے پیسوں کی ڈوریں خریدتے اور پتنگیں۔ یار دوستوں کے ساتھ پروگرام بنتے تھے کہ کب کس نے کس کے گھر آنا اور گڈیاں اڑانی ہیں۔
لاہور میں بسنت کے دوران فلائٹ آپریشنز کو محفوظ رکھنے کیلئے اہم حکم نامہ جاریبسنت کے دن کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ صبح سویرے ناشتہ کر کے ہم چھت پر چڑھ جاتے تھے۔ تب تک پتنگ باز بھی اپنی چھتوں پر آ چکے ہوتے اور آسمان پتنگوں اور گُڈیوں سے بھرا نظر آتا تھا۔ ہمارے محلے میں بسنت کے دن جب بھی کوئی پتنگ کٹتی تو بُو کاٹا کا شور اٹھتا، اور پھر ہم دیکھتے کہ گلی محلے کے بچے کٹی ہوئی پتنگ کو لوٹنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں،اکثر وہ کسی نہ کسی بچے کے ہاتھ آ جاتی لیکن اگر بچوں کا رش زیادہ ہوتا تو چھینا جھپٹی میں بعض اوقات پتنگ پھٹ جاتی اور کسی کے بھی کام نہ آتی،ہر گھر کی چھت پت بچوں نے لمبی لمبی سوٹیاں رکھی ہوتی تھیں تاکہ چھت اوپر سے گزرنے والے کٹی پتنگ کو ان سوٹیوں کے ذریعے نیچے اتارا جا سکے۔
’’شکریہ میڈیم سی ایم ‘‘۔۔۔بسنت........