We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سیاست دانوں کو ایشو اور نان ایشو کا فرق جاننا چاہئے

2 0 0
13.11.2018

حزب اختلاف کے اس الزام کی کہ قومی احتساب بیورو اور حکومت آپس میں ملے ہوئے ہیں، بعض اوقات حکومت کے وزراء کے بیانات تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے اس بیان کو کہ سندھ کی بڑی سیاسی شخصیت جلد گرفتار ہو جائے گی ، کس پیرائے میں دیکھاجائے۔ کیا وفاقی وزیر نیب کے ترجمان ہیں یا مقدمہ میں تحقیقاتی افسر ہیں کہ انہیں علم ہے کہ کون کب گرفتار ہو جائے گا۔ وہ ایک تجربہ کار سیاسی کارکن ہیں، کئی جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہیں تو ایسے بیانات سے احتراز کرنا چاہئے لیکن کیا کیا جائے شیخ صاحب کو ضرورت سے زیادہ بولنے کی ہوس ہے۔

ہر غیر ضروری اور ان سے غیر متعلقہ موضوع پر گفتگو کرنے کا بھی انہیں شوق ہے۔ ٹی وی چینل پر کسی نہ کسی بہانے پیش ہونے یا اپنے ذکر کا یہ شوق کبھی انہیں مہنگا بھی پڑسکتا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتے ہوں تو انہیں علم ہوگا کہ جلسہ عام میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے اعلان پر عمل نہ کرکے انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان ہی پہنچایا تھا۔ سیاست دان کے الفاظ اور طور طریقے ہی تو اسے معاشرے کا ماڈل کردار بناتے ہیں لیکن پاکستان میں تو ہر چیز ہی بازاری ہوگئی ہے۔ سیاست اس سے کیوں کر محفوظ رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف سندھ کے ایک صوبائی وزیر منظور وسان ہیں جنہیں بہت خواب آتے ہیں اور وہ ان کا سر عام تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

ان خوابوں کے تذکرے کی وجہ سے وہ اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے خواب دیکھا، ان کے خواب کا تذکرہ آصف زرداری نے ان کے ہی ذکر کے ساتھ کیا کہ منظور وسان کہتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی۔ وفاقی اور صوبائی وزراء کے درمیاں الفاظ کی یہ بے تکی جنگ نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔ شیخ رشید ہوں یا منظور وسان، دونوں ہی کئی کئی........

© Daily Pakistan (Urdu)