We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

شاہ رخ جتوئی اور نمر مجید کی خام خیالی

3 0 0
30.10.2018

دانا بزرگ کہتے ہیں کہ انسان کو ہر وقت خدا کی پناہ اور رحم مانگنا چاہئے۔ انسانوں کے ذہنوں میں جب یہ خناس پیدا ہوجائے کہ ان کے پاس دولت ہے، تعلقات ہیں ، اختیارات ہیں، وہ قانون سے بلند ہیں، ان سے کوئی پوچھ نہیں ہو سکتی۔ یہ خناس انسان کو لے بیٹھتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملیر جیل کا دورہ کرکے قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی کو سی کلاس میں ملنے والی آسائشوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ڈیتھ سیل میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو کو معطل کر دیا اور آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کرلی۔ اس کے ساتھ ہی شاہ رخ جتوئی کو اس بیرک میں بھیجنے کا حکم دیا جہاں قتل کے سزا یافتہ مجرموں کو رکھا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ قتل کیس کے ملزم کو جیل میں اتنی سہولت کس بنا پر فراہم کی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ شاہ رخ جتوئی کی نظرثانی اپیل خارج کر چکی ہے۔

یہ ایک واقعہ ہے۔ دوسرا بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے اہم ہے۔ ملیر جیل میں منی لانڈرنگ کیس کے اہم ملزم طحہ رضا، انور مجید اور حسین لوائی بھی قید ہیں۔ خواجہ انور مجید اومنی گروپ کے کرتا دھرتا کے دوسرے بیٹے نمر مجید سپریم کورٹ آئے تھے جہاں سے انہیں ایف آئی اے ٹیم نے حراست میں لے لیا۔ نمر مجید منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت پر تھے اور انہیں بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ نمر کو ایک روز رکھنے کے بعد ایف آئی اے نے رہا کر دیا۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اومنی گروپ کی ملوں سے بہت بڑی مالیت کی شکر غائب کر دی گئی ہے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ متعلقہ افسران کہاں تھے۔ ساتھ ہی ساتھ چیف جسٹس نے شوگر ملز سے چینی غائب ہونے پر انور مجید سے جیل میں تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انور مجید کی........

© Daily Pakistan (Urdu)