اب دیکھیں ناں ہم پسند کریں یا نہ کریں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ممدوح کپتان پر مخلوقِ خدا فریفتہ ہے، وہ جب جب جہاں جہاں پکارتا ہے اک ہجوم کھنچا چلا آتا ہے، ناقدین لاکھ اس کی ناکامیوں کی فہرست گنوائیں اس کی محبوبیت میں فرق آتا دکھائی نہیں دیتا، پتہ نہیں اس کو کس کی دعا ہے کہ وہ رد و قبولیت کے عام پیمانوں سے ماؤرا نظر آتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ٹیریان سے توشہ خانہ تک کتنے ہی الزامات اس پر لگے لیکن یہ ایسے ایسے الزامات ہیں کہ اگر ان میں سے ایک الزام کا دھبہ کسی سیاستدان کے دامن پر لگ جائے تو وہ عوام کی نظروں سے گر جائے، راندہ درگاہ ہو جائے مگر اس کے چاہنے والے کسی بھی الزام کو لفٹ نہیں کراتے۔ حالانکہ خود وہ کسی الزام کی تردید کرنے کی زخمت بھی گوارا نہیں کرتا۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران اس نے علم سیاسیات کی مبادیات الٹا کر رکھ دی ہیں۔ جوں جوں الزامات کی فہرست طویل ہوتی گئی توں توں اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حکومت اس کے خلاف، بیشتر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اس کی مخالف، میڈیا کا معتدبہ حصہ اس کا ناقد، پھر بھی وہ ملک کا مقبول ترین لیڈر ہے اور بدستور ہے۔ آزادی لانگ مارچ کو ناکام قرار دینے والے بھی بہت ہیں اور آخری جلسے کو جلسی کہنے والے بھی یہاں موجود ہیں مگر چشم فلک نے دیکھا کہ دارالحکومت کی بغل میں مصروف شاہراہ مری روڈ پر تاحد نگاہ سر ہی سر تھے۔ یہ سر محض تماشائی نہیں تھے، پر جوش سامعین تھے، ہمہ تن گوش سامعین…… خان کے ایک ایک جملے ایک ایک لفظ پر نعرہ زن سامعین…… ایسے جنونی سامعین کم کم ہی کسی مقرر کو نصیب ہوتے ہیں، جلسے میں حاضرین کی تعداد پر کبھی اتفاق رائے نہیں ہوتا حامی ہر جلسے کو تاریخی اور مخالفین ناکام قرار دیتے رہتے ہیں۔ اس جلسے کے بارے میں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ خان کے اعلان کردہ 20 لاکھ افراد تو نہیں تھے۔ دس لاکھ بھی نہیں تھے۔ پانچ لاکھ بھی نہیں ہوں گے۔ شاید ایک لاکھ بھی نہ مانے جائیں لیکن تحریک انصاف کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ سو سوا سو فٹی سڑک پر جلسہ کرنے سے یہ ہوا کہ پچاس ہزار افراد بھی تا حد نگاہ، دور تک پھیلے نظر آئے، اردگرد کی عمارات پر اگرچہ سیکیورٹی والے تعینات تھے پھر بھی کھڑکیوں اور بالکونیو ں سے لٹکتے اور جھانکتے لوگ عوامی دلچسپی کا منظر پیش کر رہے تھے۔ کیمروں کی آنکھ سے بھی یوں لگتا تھا کہ لاکھوں کا مجمع ہے۔ اب اگر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اس جلسے کو ناکام کہنا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، ان کا یہ فرمانا کہ حاضرین سے زیادہ تعداد میں تو پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے لوگ تھے تو یہ حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے ہو سکتا ہے وہ اپنے قائد میاں نواز شریف یا وزیراعظم میاں شہباز شریف کو خوش کرنے کے لئے ایسا کہہ رہے ہوں لیکن یہ کوئی دوستی نہیں ہے اگر ان کے بیانات کی روشنی میں ہی قیادت نے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی تو ابھی سے دعا پڑھ لینا چاہئے۔ دوسری طرف اگر دیکھیں تو کوئی کامیاب جلسہ انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے، جلسے اور الیکشن کی سائنس مختلف ہے کامران ترین جلسے میں بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ نہیں ہوتے اتنے ووٹر تو اسمبلی کے ایک ڈیڑھ حلقے میں ہی کامیابی دلا سکتے ہیں قومی اسمبلی کے ایک ایک حلقے میں تین تین لاکھ ووٹ ہوتے ہیں، جیتنے کے لئے لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، البتہ کامیاب جلسہ اتنا ضرور کرتا ہے کہ مقبولیت کی لہر کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ جلسہ تو جیسا تھا توقع کے قریب ہی تھا مگر اس میں سرپرائز واقعی سرپرائز تھا۔ خان کا تمام اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان غیر متوقع تھا، اسے سب کے لئے حامیوں کے لئے بھی اور مخالفوں کے لئے بھی بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ خود تحریک انصاف اور اس کے حلیفوں کے لئے غیر متوقع تھا۔حقیقی سرپرائز تھا قومی اسمبلی سے تو تحریک انصاف پہلے ہی لاتعلق ہے پھر بھی مقبولیت ثابت کرنے کے لئے ضمنی الیکشن لڑا، وہاں سے نکلنے کا اثر وفاقی حکومت پر تو نہیں ہوگا، وہ قائم رہے گی اگر مشاورت کے بعد یہی فیصلہ برقرار رہتا ہے تو خود خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی اور پنجاب میں حلیف اتحاد کی حکومت ختم ہو گی۔ اگر اس کا اطلاق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اسمبلیوں پر بھی کیا تو وہاں بھی تحریک انصاف کی حکومتیں ختم ہوں گی، تکنیکی موشگافیوں کے بعد کیا صورت سامنے آتی ہے اس کا پتہ تو بعد میں چلے گا، فی الحال یہ لگتا ہے کہ نئے الیکشن جلدی لینے کے لئے خان نے خودکش حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے، ہو سکتا ہے کہ پنجاب کے چوہدریوں سے مشاورت کے بعد اعلان مؤخر یا تبدیل ہو جائے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ن والوں کو بغلیں بجاتے دیکھ کر خان خود ہی ”سوری سوری“ کہہ کر یوٹرن لے لے۔

سٹیٹ بینک نے گوگل پلے سٹور کی ادائیگی روکنے کی خبر کی تردید کرتے ہوئے اصل حقیقت صارفین کو بتا دی

جلسہ بھی جاندار تھا اور خان کا خطاب بھی جامع، مربوط اور شاندار تھا، کیا ہی اچھا ہو کہ خان خود اپنے حواریوں، خصوصاً سینٹر اعظم سواتی کو الفاظ کا چناؤ سکھا دے ورنہ بار بار کی گرفتاریوں سے سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ ہو سکتا ہے، اللہ خیر کرے، اس بار رہائی ملنے پر ظلم کی داستان کوئی نیا رنگ لئے سنائی نہ دے۔ خدا سب کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

QOSHE -  خطاب جاندار یا خودکش حملے کا اعلان  - جبار مفتی
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

 خطاب جاندار یا خودکش حملے کا اعلان 

7 0 0
28.11.2022

اب دیکھیں ناں ہم پسند کریں یا نہ کریں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ممدوح کپتان پر مخلوقِ خدا فریفتہ ہے، وہ جب جب جہاں جہاں پکارتا ہے اک ہجوم کھنچا چلا آتا ہے، ناقدین لاکھ اس کی ناکامیوں کی فہرست گنوائیں اس کی محبوبیت میں فرق آتا دکھائی نہیں دیتا، پتہ نہیں اس کو کس کی دعا ہے کہ وہ رد و قبولیت کے عام پیمانوں سے ماؤرا نظر آتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ٹیریان سے توشہ خانہ تک کتنے ہی الزامات اس پر لگے لیکن یہ ایسے ایسے الزامات ہیں کہ اگر ان میں سے ایک الزام کا دھبہ کسی سیاستدان کے دامن پر لگ جائے تو وہ عوام کی نظروں سے گر جائے، راندہ درگاہ ہو جائے مگر اس کے چاہنے والے کسی بھی الزام کو لفٹ نہیں کراتے۔ حالانکہ خود وہ کسی الزام کی تردید کرنے کی زخمت بھی گوارا نہیں کرتا۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران اس نے علم سیاسیات کی مبادیات الٹا کر رکھ دی ہیں۔ جوں جوں الزامات کی فہرست طویل ہوتی گئی توں توں اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حکومت اس کے خلاف، بیشتر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اس کی مخالف، میڈیا کا معتدبہ حصہ اس کا ناقد، پھر بھی وہ ملک کا مقبول ترین لیڈر ہے اور بدستور ہے۔ آزادی لانگ مارچ کو ناکام قرار دینے والے بھی بہت ہیں اور آخری جلسے کو جلسی کہنے والے بھی یہاں موجود ہیں مگر چشم........

© Daily Pakistan (Urdu)


Get it on Google Play