عرفان صدیقی ہماری صحافت میں ایک اہم نام ہیں جو اردو لکھتے ہیں تو موتی بکھیر دیتے ہیں جن سے محبت کرتے ہیں بے وفائی نہیں کرتے، اس لئے وہ ہر دور میں شریف خاندان کے حامی رہے ہیں یہ وفاداری انہیں سینیٹر کے مقام تک پہنچا دیتی ہے، 23نومبر کو ان کا مضمون روزنامہ ”جنگ“ میں ”سراج الحق کے ارشادات عالیہ“ کے عنوان پر شائع ہوا، جس میں اس مؤقف کے قائل ہیں کہ وزیر اعظم کو مکمل اختیار ہونا چاہیے وہ جسے چاہے آرمی چیف کی مسند پر بٹھا دیں، کیونکہ انہیں سراج الحق کا مؤقف ناگوار گزرا جس میں انہوں نے ٹھیک کہا "آرمی چیف کی تقرری چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح سنیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اِس معاملے کو سیاستدانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ اس طرح کی تقرری کے لئے سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہوں۔ سیاسی کھینچا تانی کے بعد جو آرمی چیف آئے گا، وہ ادارے کو دیکھے گا یا سیاسی پارٹیوں کے مفادات کو“ میرے دوست عرفان صدیقی یہ بھول گئے کہ پاکستان میں سبھی سیاست دانوں کو اپنی مرضی کا آرمی چیف چاہیے، یہاں سب اقتدار میں آنے کے بعد طاقت کا مرکز اپنی ذات کو بنانا چاہتے ہیں اس لئے آئینی حد بندیوں اور طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر اپنی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انتظامی معاملے کو شدید سیاسی معاملہ بنا دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے آئین میں یہ نکتہ واضح ہے کہ جو فوجی آفیسر زیادہ سینئر ہو گا، اس کو وزیراعظم کی سفارش پر صدر پاکستان آرمی چیف تعینات کر دیں گے۔ آرمی چیف کی تقرری امتیازی ہوتی رہی ہے جو آئین کے آرٹیکل 25 کی ”پیٹنٹ“ کی خلاف ورزی تھی۔ مذکورہ تقرری کا عمل غیر منصفانہ، غیر معقول، من مانی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹ کے تمام ججز کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر کی گئی لیکن چیف آف آرمی سٹاف کے انتخاب میں اسی کو نظر انداز کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیاستدان بھی اس غیر آئینی اقدام سے خود کو نہ بچا سکا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاستدان ہر وقت فوج کے سیاسی کردار کا رونا روتے رہتے ہیں مگر جب آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ آتا ہے تو تمام انتظامی اور آئینی قوانین کی دھجیاں اڑا کر صرف اپنے ذاتی مفاد کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے۔پاکستان میں جو سیاستدان بھی اقتدار میں آیا اس نے کوشش کی کہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگائے۔

کار سرکار مداخلت کیس، عمران خان کی عبوری ضمانت میں9 دسمبر تک توسیع

جس سے وہ خود اس گڑھے میں گرتے رہے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی وہ یہ بھول جاتے ہیں آرمی کے فیصلے ایک فرد نہیں بلکہ ادارہ کرتا ہے،ذوالفقار علی بھٹو نے کئی سینئر جرنیلوں کی سینیارٹی کو نظر انداز کر کے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا۔ ضیاء الحق کو آرمی چیف بنانے سے پہلے ان کے بارے میں رپورٹ لی تو ان کو بتایا گیا کہ یہ صاحب انتہائی غیر سیاسی ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت گولف کھیلنے اور نماز پڑھنے میں صرف کرتے ہیں۔ ذوالفقار بھٹو کو ان کی یہ ادا بڑی پسند آئی لہذا انہوں نے آئینی اور قانونی طریقہ کار کو چھوڑ کر اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بعد میں جو سلوک ذوالفقار بھٹو کے ساتھ کیا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں نسبتاً غیر سیاسی اور معتدل مزاج آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو اپنی مدت ملازمت پوری کرنے سے پہلے ہٹا کر ایک جونیئر جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا جس کی وجہ سے کئی سینئر جرنیلوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ان کا حق مارا گیا۔ پرویز مشرف کی تقرری کے وقت بھی نواز شریف نے وہی غلطی کی جو ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی کہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کو چھوڑ کر پرویز مشرف کے غیر سیاسی اور مڈل کلاس خاندانی پس منظر والی غیر منطقی سوچ کو ترجیح دی اور پھر جو مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے آرمی چیف نے ان کے ساتھ کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ یاد رہے کی یہ نواز شریف کے اس دور کی بات ہے جب ان کے پاس پاکستان کی تاریخ کی مضبوط ترین حکومت تھی جو عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بنائی گئی تھی۔

پاک فوج کا قومی فیصلہ سازی میں ہمیشہ اہم کردار رہا ہے،فوج کے غیر سیاسی ہونے سے پاکستان میں سیاسی استحکام کو فروغ ملے گا،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

حیرانی کی بات ہے محترمہ بینظیر بھٹو جب پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرتی ہے تو مشرف کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی چیف لگانے پر اصرار کرتی ہے کیوں کہ جنرل کیانی محترمہ کے ملٹری سیکرٹری رہ چکے تھے۔ ان کی وفات کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو صدر زرداری نے جنرل کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع دے کر اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی روایت کو برقرار رکھا۔ عمران خان اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے کی روایت کے بہت ناقد دکھائی دیتے تھے اور اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے میں سنیارٹی کے طریقہ کار کو اپنایا جائے مگر جب وہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے میرٹ کے برعکس جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور آرمی چیف توسیع دے دی اور پھر اپنی حکومت کے چھن جانے کے بعد اپنی پسند کے لگائے ہوئے آرمی چیف ہی کو مورد الزام ٹھہرانے لگے۔ عمران خان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد اپنے بیانیے پر عمل کرتے ہوئے میرٹ اور سنیارٹی کے مطابق آرمی چیف کا تقرر کریں گے مگر بد قسمتی سے وہ بھی اسی بہاؤ میں بہہ گئے اور اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے والے گرداب میں پھنس گئے۔ عمران خان تو باقی وزرائے اعظموں پر بھی سبقت لے گئے کیوں کہ وہ نہ صرف آرمی چیف اپنی پسند کا چاہتے تھے بلکہ آئی ایس آئی کا سربراہ بھی اپنی پسند کا چاہتے تھے۔

کورونا کے مزید 28 کیسز مثبت، 28 مریضوں کی حالت تشویشناک

بدقسمتی سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے بشمول عمران خان تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج پھر پاکستان اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔عمران خان نے اپنے فیصل آباد والے جلسے میں بیان دیا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں جبکہ وہ یعنی عمران خان چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری میں ذاتی پسند کی بجائے سنیارٹی کا خیال رکھا جائے،چونکہ عرفان صدیقی میاں شہباز شریف کے مقلد ہیں اس لئے وہ یہ چاہتے میں انہیں اپنی مرضی کا آرمی چیف نامزد کرنا چاہیے اس لئے انہیں سراج الحق کے بیان ”سینیارٹی پر آرمی چیف کی تعیناتی“ نے بے چین کیا اور حقائق کو پس پشت ڈال کر اپنی بے چینیوں کا اظہار کیا جو آئین کے متزاد ہے۔

پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد آ بھی جائے تو تین دن میں فارغ ہوجائے گی: فواد چوہدری

٭٭٭٭٭

QOSHE -  عرض یوں ہے کہ - عبد الرشید مرزا
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

 عرض یوں ہے کہ

9 0 0
28.11.2022

عرفان صدیقی ہماری صحافت میں ایک اہم نام ہیں جو اردو لکھتے ہیں تو موتی بکھیر دیتے ہیں جن سے محبت کرتے ہیں بے وفائی نہیں کرتے، اس لئے وہ ہر دور میں شریف خاندان کے حامی رہے ہیں یہ وفاداری انہیں سینیٹر کے مقام تک پہنچا دیتی ہے، 23نومبر کو ان کا مضمون روزنامہ ”جنگ“ میں ”سراج الحق کے ارشادات عالیہ“ کے عنوان پر شائع ہوا، جس میں اس مؤقف کے قائل ہیں کہ وزیر اعظم کو مکمل اختیار ہونا چاہیے وہ جسے چاہے آرمی چیف کی مسند پر بٹھا دیں، کیونکہ انہیں سراج الحق کا مؤقف ناگوار گزرا جس میں انہوں نے ٹھیک کہا "آرمی چیف کی تقرری چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح سنیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اِس معاملے کو سیاستدانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ اس طرح کی تقرری کے لئے سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہوں۔ سیاسی کھینچا تانی کے بعد جو آرمی چیف آئے گا، وہ ادارے کو دیکھے گا یا سیاسی پارٹیوں کے مفادات کو“ میرے دوست عرفان صدیقی یہ بھول گئے کہ پاکستان میں سبھی سیاست دانوں کو اپنی مرضی کا آرمی چیف چاہیے، یہاں سب اقتدار میں آنے کے بعد طاقت کا مرکز اپنی ذات کو بنانا چاہتے ہیں اس لئے آئینی حد بندیوں اور طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر اپنی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انتظامی معاملے کو شدید سیاسی معاملہ بنا دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے آئین میں یہ نکتہ واضح ہے کہ جو فوجی آفیسر زیادہ سینئر ہو گا، اس کو وزیراعظم کی سفارش پر صدر پاکستان آرمی چیف تعینات کر دیں گے۔ آرمی چیف کی تقرری امتیازی ہوتی رہی ہے جو آئین کے آرٹیکل 25 کی ”پیٹنٹ“ کی خلاف ورزی تھی۔ مذکورہ........

© Daily Pakistan (Urdu)


Get it on Google Play