We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پاکستان 15%کک بیک سے 50%تک

12 4 28
25.10.2018

اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے ہمارے والد محترم اپنی تقریروں میں ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ جو آج مجھے بے طرح یاد آرہا ہے کہ ایک شہر میں ’ نک کٹوں‘ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہورہا تھا۔ پہلے تو وہ لوگ اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے تھے۔ زیادہ بازار میں نہیں آتے تھے۔ اکثریت مذاق اُڑاتی تھی۔ ایک روز وہ اکٹھے ہوئے تو کچھ سیانے نک کٹوں نے کہا کہ ہم اب اکثریت میں ہیں۔ کب تک ان مٹھی بھر ناک والوں سے ڈریں۔ اب ہم باہر نکلیں گے۔ اور ان پوری ناک والوں کے خلاف نعرے لگائیں گے۔ دیکھیں گے ۔ پھر یہ چند ناک والے کیا کرتے ہیں۔

ایک روز ’نک کٹوں‘ کا جلوس شہر میں دندنانے لگا۔ بے چارے ناک والے اپنی اپنی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔‘‘

یہ تو بیسویں صدی کی 50کی دہائی کا ذکر ہے۔ اب تو اکیسویں صدی کی دوسری دہائی ہے۔ اب تک تو نک کٹوئوں کی تعداد میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اب تو وہ قرار داد لانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

………

روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ

………

ایک صاحب بڑے مشتعل اور حیران و گریاں ہمارے دفتر آئے کہنے لگے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ہم پر کن لوگوں کو مسلط کردیا گیا ہے۔ چند روز میں ہی اتنی مہنگائی۔ ہر چیز کا بوجھ غریبوں پر ڈالا جارہا ہے ۔ ایسے کب تک چلے گا۔

………

میں خود بھی سخت تذبذب میں مبتلا ہوگیا کہ یہ تاثر تو کچھ کچھ درست ہے۔ عام آدمی کو تو کوئی راحت نصیب نہیں ہورہی ۔ صوبے میں حکومت کسی کی بھی ہو۔ لیکن ذمہ داری تو مرکزی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ عام آدمی ان آئینی باریکیوں........

© Daily Jang