We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سائیں کا دور

20 168 0
03.06.2019

وادی سندھ کے سب باسی سائیں ہیں، پانچ ہزار سال پہلے موہنجودڑو کا حکمران Priest Kingتھا، یہ پروہت جسے سادہ زبان میں سائیں کہتے ہیں، مجسموں میں ہلکی ہلکی کنگھی کی ہوئی داڑھی اور پھولوں والی اجرک پہنے آج بھی زندہ ہے۔ ہزاروں سال گزر گئے ہم اب سائیں کے سائیں ہی ہیں، کاہل کے کاہل، مستقبل سے لاتعلق، کولہو کے بیل کی طرح کھوپے پہنے اپنی چھوٹی سی دنیا کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اتنا چل چکے ہیں کہ دنیا مسخر کرلی ہو گی حالانکہ ہم بیل کی طرح ایک دائرے ہی میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔

ماضی سے پیچھا چھڑانا اور اُسے بدلنا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ اسی لئے معاشروں اور ملکوں پر ماضی کی تاریخ کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ Priest Kingکو گئے ہزاروں سال ہو گئے مگر اس وقت کا سائیں آج بھی زندہ و تابندہ ہے، فرض کریں کہ آج کے سائیں کو ملک کی باگ ڈور مل چکی ہے اور یہ سائیں صرف سائیں نہیں بلکہ باقاعدہ سائیں لوک ہے۔ سائیں اکیلا نہیں ہے سائیں کی کابینہ بھی سائیں ہے۔ سائیں کے فیصلے بھی سائیں ہیں اور تو اور سائیں کے اصول اور ایمانداری بھی سائیں ہے، سائیں کے اس دورِ اقتدار میں اہم فیصلے کچن کابینہ کرتی ہے جبکہ کابینہ صرف ربڑ اسٹمپ ہے، اکثر وزیر کو نے لگے بیٹھے ہیں کیا خٹک، کیا غلام سرور اور کیا فواد جہلمی، سبھی اہم فیصلہ سازی سے باہر ہیں۔ سائیں کی اپنی کچن کابینہ ہے جس میں زلف پجاری، سیکرٹری اعظم نوکر شاہی اور سائیں کے دورن خانہ شامل ہیں۔ کچن کابینہ کے مزے ہیں کل تک سرکاری طیارے پر سوار ہو کر یہ سب حجاز کی مقدس فضائوں میں موجود تھے، مزہ اس وقت آیا جب او آئی سی میٹنگ کے لئے سعودی عرب جانے کا وقت آیا، سب سے ضروری مودی ملتانی کا وہاں جانا تھا مگر اسے کہا گیا کہ وہ کمرشل فلائٹ پکڑے کیونکہ جہاز کی سواریاں مکمل تھیں اور ایک سے بڑا ایک ماہر امور خارجہ و بین الاقوامی امور سائیں کے ہم رکاب تھا۔ مودی ملتانی برائلروں کی جماعت میں واحد دیسی مرغی ہے، اسے تو ہر صورت وہاں جانا تھا، چارو ناچار اپنے طور........

© Daily Jang