We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

صلح جوئی اور مفاہمت میں سب کا بھلا

5 8 0
02.06.2019

آہ! وزیرستان اور فاٹا کے قبائلی بھائیوں نے کیا کیا ستم ہیں کہ جو اپنے کشادہ سینوں پہ نہ سہے۔ 40 برس تک وہ مارے جاتے رہے، گھروں سے بے گھر ہوئے اور اپنی تباہ حال بستیوں کو چھوڑ کر کیمپوں یا پھر کہیں اجنبی جگہوں پہ مارے مارے پھرتے رہے۔ کبھی ’’مجاہدین‘‘ قابض ہوئے، تو کبھی تحریکِ طالبان پاکستان یا پھر طرح طرح کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اُن پر اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی۔ قبائلی علاقوں پہ پاکستان کی رٹ ختم ہوئی اور وحشت ناک امارات کا قبضہ ہوا۔ یہاں تک کہ سوات و دیگر ملحقہ اضلاع بھی دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ گئے اور جانے پہلے جنرل ضیا الحق اور پھر جنرل مشرف کی حکمتِ عملی کی کیا منطق تھی کہ پاکستان پر دہشت گردوں کا بھوت چھا گیا اور ہر طرف مارا ماری میں پاکستانی لقمۂ اجل بنتے رہے۔ جب طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر دُور رہ گئے تو صدر زرداری، عوامی نیشنل پارٹی اور جنرل کیانی نے سوات سے ان بدرُوحوں کو مار بھگایا بھی اور وہاں لوگوں کو واپس بسا بھی دیا۔ لیکن ’’اچھے‘‘ اور ’’بُرے‘‘ طالبان کی تذویراتی کھچڑی پھر بھی پکتی رہی۔ تاآنکہ، جب ریاست کو بڑا خطرہ نان اسٹیٹ ایکٹرز سے حدیں پار کر گیا تو ریاست پھر حرکت میں آئی کہ کوئی بھی ریاست اپنی عملداری یا اقتدارِ اعلیٰ گنوا کر ریاست کہلانے کے لائق نہیں رہتی۔ لیکن ابھی سیاسی و عسکری قیادت گومگو کے عالم میں تھی۔ اگر........

© Daily Jang