We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اہلِ مصلحت کے نام

25 315 0
01.06.2019

مقتدر ترین حلقوں میں یہ مانا جاتا ہے کہ پانامہ اسکینڈل کسی ملکی یا غیر ملکی طاقت کا کام نہیں تھا بلکہ یہ ایک طرح سے قدرتی آفت تھی، جس نے شریفوں کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اُنہیں جیلوں میں بند کروا کے چھوڑا۔ بالکل اسی طرح نیب کے حوالے سے بھی عذاب اوپر سے اترا ہے اور عذابِ الٰہی اتنی جلدی ٹلا نہیں کرتے۔ اہلِ مصلحت جتنا مرضی زور لگا لیں، جو مرضی تاویلیں پیش کر لیں، قدرتی آفات خونی بھینٹ لے کر ہی ٹھنڈی پڑتی ہیں۔

دنیا کی مہذب قومیں اور آئیڈیل معاشرے سچ پر چلتے ہیں جبکہ دنیا کی غیر مہذب قومیں جھوٹ اور دھوکے سے کام لیتی ہیں۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان بھی ایک پردہ ہوتا ہے جسے مصلحت کا نام دیا جاتا ہے۔ اکثر حکومتیں سچ اور جھوٹ کے سخت معیار سے بچ کر مصلحت کی پناہ لیتی ہیں۔ گو مصلحت اور اصولوں کی پابندی میں بڑا فرق ہوتا ہے مگر پھر بھی حکومتوں کی چھوٹی موٹی مصلحتیں اُنہیں وقتی کامیابی دلاتی رہتی ہیں لیکن مصلحت اصولوں پر ہی حاوی ہو جائے، سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کیا جائے تو پھر زوال آتا ہے، عذاب آتے ہیں اور سب کچھ بدل جاتا ہے۔

نیب اسکینڈل نے کئی شعبوں اور شخصیتوں کو ننگا کر دیا۔ کئی ایک ’’سچوں‘‘ کے چہرے سے پردے سرکائے اور وہ اصل میں اہلِ مصلحت نکلے۔ نونی ہوں یا جیالے، اکثر کی لیڈر شپ نے اصول کے بجائے مصلحت میں پناہ ڈھونڈی۔ کسی نے بھی اصول کی بنا پر اس اسکینڈل کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ اس سے اسے کتنا فائدہ اور حکومت کو کتنا نقصان ہے؟ اور تو اور انصافی حکومت نے بھی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر مصلحت کو اپنا لیا۔ نونی، جیالے، انصافی اور مقتدرہ سارے کے سارے ہی اہلِ مصلحت نکلے۔ اتنے بڑے واقعے کی سنگینی کو ڈھانپنے اور چھپانے میں سب شریک ملزم ہیں مگر تاریخ کا سبق........

© Daily Jang