We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

مودی کی کیسری لہر اور ہندتوا

7 13 0
26.05.2019

بھارت اب تقریباً زعفرانی رنگ (Saffron) میں رنگا جا چکا ہے۔ مودی کی کیسری لہر کے دوش پہ ہندتوا ہندوستان کی قومی و مذہبی شناخت بن گئی ہے۔ انتخابات میں فقید المثال کامیابی کا جشن مناتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ اِن انتخابات میں کسی جماعت کو سیکولرازم کا ذکر کرنے کی ہمت نہ رہی کہ جعلی سیکولر اپنی اخلاقی قوت گنوا چکے۔ مودی کے اِس نظریاتی بیان کی تصدیق ہوئی بھی تو مدھیا پردیش کے شہر بھوپال میں جہاں مالے گائوں، اجمیر درگاہ اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث سدھوی پراگیا سنگھ ٹھاکر کانگریس پارٹی کے بڑے جید نیتا ڈگ وجے سنگھ سے نبرد آزما تھی۔ سدھوی پراگیا نے اپنے حریف کو بھاری اکثریت سے مات دے کر اپنی فتح کو دھرم کی فتح سے تعبیر کیا۔ سدھوی نے مہاتماگاندھی کے جنونی ہندو قاتل نتھو رام گوڑسے کو دیش بھگت قرار دیا، جبکہ اُن کے مدمقابل کانگریسی نیتا ڈگ وجے سنگھ ہرسنت کے پائوں چھوتے اور اور ہرمندر کی پوجا کرتے نظر آئے۔ جہاں مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور دیگر سیفران لیڈرز جارحانہ قوم پرستی اور سخت گیر ہندتوا (Hard Hindutva) کا راگ الاپ رہے تھے، وہاں کانگریسی لیڈرز راہول گاندھی، پریانکاگاندھی بھی ہندو جذبات کی تسلی کے لیے جہاں گئے مندروں میں پوجا پاٹ کرتے نظر آئے۔ ایسے میں ہندتوا کے پرانے سیوک مودی کو اس سے زیادہ کیا قلبی طمانیت مل سکتی تھی۔

پلوامہ کی دہشت گردی کے خلاف قومی غصے کی لہر پر سوار مودی ایک ایسے طاقتور دیش بھگت کے........

© Daily Jang