We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

باڈی لینگویج، بدن کی بولی

14 3 0
24.05.2019

کیفی اعظمی باکمال شاعر تھے۔ بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ انہوں نے فلموں کے لئے بہت ہی دل کش نغمے لکھے۔ ان نغموں میں، جو اگرچہ گیت کے ڈھنگ پر لکھے جاتے تھے،لیکن کیفی صاحب نے ان میں غزل کی نفاستوں کی ایسی آمیزش کی کہ ہم ہی جانتے ہیں۔ان کے لکھے ہوئے دو فلمی گیت مجھے بہت سرشار کرتے ہیں۔ایک کے بول کچھ یوں ہیں:آج کی کالی گھٹا، مست متوالی گھٹا، مجھ سے کہتی ہے کہ پیاسا ہے کوئی، کون پیاسا ہے، مجھے کیا معلوم۔اور ایک اور نغمہ تو سحر انگیز ہے: کچھ د ل نے کہا، کچھ بھی نہیں، کچھ دل نے سنا، کچھ بھی نہیں، ایسی بھی باتیں ہوتی ہیں، ایسی بھی باتیں ہوتی ہیں۔

اس وقت کچھ ایسی ہی باتیں میرا آج کا موضوع ہیں۔ وہ باتیں جنہیں آج کل کی زبان میں عام طور پر ’باڈی لینگویج‘ کہا جاتا ہے۔یعنی یہ کہ انسان جب بولتا ہے، وہ تو بولتا ہی ہے، ساتھ ساتھ اس کا پورا وجود بھی بولتا ہے، کبھی یوں کہ زبان جو کچھ کہہ رہی ہوتی ہے، بدن کی حرکات وسکنات بھی وہی کہہ رہی ہوتی ہیں۔لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ زبان پر کچھ اور ہوتا ہے، بدن کے اشارے کنایے کچھ اور کہہ رہے ہوتے ہیں۔یہی باڈی لینگویج یا بدن کی بولی کا کمال ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ بولی سمجھنے کا ہنر آتا ہے، کچھ سیکھنے کے لئے کسی کو استاد کرتے ہیں۔مثال کے طور پر میںایک بار اپنے بڑے صاحب کے پاس ایک منصوبہ لے کر گیا۔ میں........

© Daily Jang