We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

قوموں کی ترقی میں عدم توازن کے مضمرات

4 2 0
18.05.2019

آج انسانیت اکیسویں صدی میں اپنے سفر پر رواں دواں ہے۔ انسانی تاریخ کا جائزہ لیں تو بلاشبہ بہت سے ایسے موڑ آئے ہیں جب انسانی تمدن شعوری بلندی کے ساتھ نمو پاتا اور نمایاں ہوتا نظر آیا لیکن سچی بات یہ ہے کہ انسانیت نے جو ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ترقی بیسویں صدی میں کی، تاریخِ عالم اُس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ہوشربا ترقی محض سائنسی ایجادات تک محدود نہیں رہی بلکہ فکری و شعوری لحاظ سے زندگی کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں جس میں انقلاب برپا نہیں ہوا، اقوامِ عالم کی سیاست، معیشت، معاشرت سب کچھ بدل گئے ہیں۔ اِس اعتراف و سپاس کے باوجود اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ اخلاقی لحاظ سے کچھ بھی نہیں بدلا، ظلم کل بھی ہوتا تھا، آج بھی ہوتا ہے۔ انسانی مساوات کل بھی ایک خواب تھا، آج بھی ایک خواب ہے۔ حقوق و انصاف پر جس طرح پہلے زور آوروں اور طاقتوروں کا غلبہ و قبضہ تھا، اُسی طرح آج بھی وہ قابض ہیں بلکہ دیکھا جائے تو اخلاقی نقطہ نظر کے ایک حوالے سے آج کی دنیا، ماقبل دنیا سے قدرے پستی میں چلی گئی ہے۔ پہلے ایک انسان اپنی پوری قوت اور ہتھیاروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کتنے انسانوں کی جانیں لینے کی قدرت رکھتا تھا؟ اور اب وہی ایک انسان لمحے بھر میں کتنے انسانوں کو ہلاک و برباد کر سکتا ہے؟ یہ درمیانی فرق کیا انسانیت کی اضافی تباہی نہیں ہے؟

دورِ جدید نے جہاں انسانیت کو اتنی........

© Daily Jang