We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

آئی ایم ایف پروگرام

17 7 0
16.05.2019

اکتیس مئی 2018کو جب مسلم لیگ(ن) حکومت نے اپنی مدت تمام کی تو ہم نے ایسی معیشت چھوڑی جس کی شرحِ نمو 5.8فیصد تھی اور آنے والے مالی سال اِس شرح میں مزید اضافہ ہونے کی توقع تھی۔ اِس شرحِ نمو کے ساتھ معیشت ہر ماہ 125,000ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرسکتی تھی۔ مہنگائی کی شرح چار فیصد سے کچھ کم اور اسٹیٹ بینک کی طے کردہ شرحِ سود 6.25فیصد تھی۔ حکومت کی آئینی مدت تمام ہونے سے چند ماہ پہلے ہم نے لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم کردی تھی۔ ہم نے نجی شعبے میں چلنے والے دو ایل این جی ٹرمینلز قائم کئے اور کراچی سے لے کر باقی ملک تک گیس پائپ لائن بچھائی جو یومیہ 1.2بلین کیوبک فٹ گیس ترسیل کر سکتی تھی۔ ہم اپنی صنعت کو باقاعدگی سے گیس سپلائی کر سکتے تھے۔

یہاں قارئین کو یہ بتانا ضروری ہے کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ یا تجارتی خسارہ کوئی انہونی چیز نہیں۔ درحقیقت ترقی پزیر ممالک میں تجارتی خسارہ ہوتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ پاکستان کو بجلی پیدا کرنے کے لئے پاور پلانٹس اور کاریں، ٹیکسٹائل اور کیمیکلز کے لئےمشینری کی کس قدر ضرورت تھی۔ چنانچہ بہتر ہے کہ عوام کو مستقل پریشان رکھنے کے بجائے یہ مشینری درآمدکر لیں۔ ایسا کرنے سے تجارتی خسارہ ایک یا دوسال کے لئے اوپر چلا جائے گا۔ کرنٹ اکائونٹ خسارے کا مطلب ہے کہ غیر ملکی بچت ملک میں منتقل کر رہے........

© Daily Jang