We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جیل یاترا اور حقیقی عوامی سونامی

13 174 0
12.05.2019

عجب منظر تھا۔ شاید پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی سیاسی رہنما کو جیل چھوڑنے گئے اور اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ بے گناہ ہے اور آمرانہ قوتوں کے سامنے کھڑا ہونے کی پاداش میں سزاوار ٹھہرا۔ انگریزوں کے دور میں سول نافرمانی یا پھر مارشل لائوں کے خلاف مزاحمتی تحریکوں میں جیل بھرو تحریکیں چلتی تھیں اور جمہوریت کے پروانوں کو ہاروں سے لاد کر جیل یاترا کے لیے وداع کیا جاتا تھا۔ تحریکیں تو سیاسی قائدین کی رہائی کے لیے بھی چلائی جاتی تھیں، لیکن میاں نواز شریف کو پھر سے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ جیل روانہ کرنے کا منظر عجب بے بسی کا مظہر تھا۔ سپریم کورٹ سے دل کے مریض کو چھ ہفتوں کی ضمانت میں توسیع نہ ملنے پر مسلم لیگ نواز کے کارکن بجھے بجھے بھی تھے اور سخت ناراض بھی۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ اتنے پُرجوش لوگوں کے آنے کے باوجود، مسلم لیگ ن کی بیشتر قیادت پارٹی کی جانب سے کال نہ دینے کے گناہ پہ کیوں اتنی مصر رہی۔ جانے یہ لیگی لوگ مزاحمت کے نام سے کیوں بدکتے ہیں۔ ایسے تو ووٹ کو عزت ملنے سے رہی اور سویلین جمہوری آئینی بالادستی کی راہ کبھی ہموار ہو گی؟ شاید لیگی روایت ہی ایسی ہے کہ جو ایک بدعت کی طرح اس کے خمیر میں رچی بسی ہے۔ لیکن نواز شریف اور مریم نواز کے لاہوری متوالوں نے قیادت کے وسوسوں کو غلط ثابت کر دیا اور جیل کے دروازے ’’گنتی بند ہونے‘‘ کے چھ گھنٹے بعد بھی کھولنے پڑے۔

پاکستان بھی عجب مملکت ہے اور اس کی سیاست بھی انوکھی۔ پاکستان آیا تو وجود میں جمہوری حقِ خودارادیت کے طفیل، مگر اس کی زیادہ تر سیاست بگڑی تو مارشل لائوں کی کوکھ میں اور بنی بھی تو اُن کی........

© Daily Jang