We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جدید سائنسی تقاضے اور فواد چوہدری

6 2 0
09.05.2019

مذہب اور سائنس کی آویزش بہت قدیم ہے۔ اہلِ مذہب کی باہمی جنگ و جدل رہی، ایک طرف اُنہوں نے سائنسی سوچ کے حاملین پر صدیوں جو مظالم ڈھائے اور جو اذیتیں پہنچائیں، اُن کی ایک طویل درد ناک داستان ہے۔ آج جن سچائیوں کو ہم مسلمہ حقائق تسلیم کرتے ہیں، ایک زمانے میں اُن پر اظہارِ خیال کرنا ناقابلِ معافی جرم تھا۔ مثال کے طور پر گردشِ زمین کا نظریہ آج اِس قدر قبولیت عامہ کا حامل ہے کہ کوئی اُس کی مخالفت میں بولے تو بچے بھی اُس پر ہنسیں اور مذاق اڑائیں گےکہ آج سب کو معلوم ہے کہ دن اور رات کیسے بدلتے ہیں مگر قدیم زمانے کے لوگ گردشِ زمین کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ وہ ظاہری طور پر جو کچھ دیکھتے تھے اُسی کو حقیقت خیال کرتے تھے۔ آج کا انسان یہ جانتا ہے کہ اِس وقت اگر یہاں پاکستان میں رات ہے تو لازم نہیں پوری دنیا میں رات ہو۔ اِس وقت سورج ڈوبا نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی اور حصے میں چمک رہا ہے۔ پچھلے زمانے میں ہماری عقل ڈوبی رہی مگر اُس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کئی لوگوں کی عقلوں پر آج بھی پردے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ نان ایشو کو ایشو بنا دیتے ہیں۔ چاند دیکھنے کا مسئلہ بھی اُن میں سے ایک ہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے تب سے یہ نان ایشو کسی نہ کسی حوالے سے ہر سال ایشو بنتا چلا آرہا ہے، بالخصوص عیدین کے مواقع پر یہ اختلاف رائے مخالفانہ پروپیگنڈے تک پہنچ جاتا ہے۔

ہمارے عامتہ المسلمین کی ہمیشہ سے........

© Daily Jang