We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

عصرِ حا ضر کا تقاضا: جنوں یا خرد؟

6 0 0
06.05.2019

آج کی دنیا میں ہم مسلمانوں کے متعلق مجموعی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ہم ’حقائق‘ کو اتنا اہم خیال نہیں کرتے جتنی اہمیت ’جذبات‘ کو دیتے ہیں۔ محض جذبے کے بل بوتے پر ہم ممولے کو شہباز سے لڑا دیتے ہیں اور فتح یقینی خیال کرتے ہیں۔ ہمارے کئی مفکرین اپنی معصوم اور تکنیکی وسائل کے لحاظ سے بے دست وپا قوم کو اِس بات کا برسوں درس دیتے رہے ہیں کہ دین کی دعوت کو لے کر اٹھو اور پوری دنیا پر چھا جائو۔ اِس ’’چھا جانے‘‘ کی خواہش سے کیا کیا اثرات مرتب ہوں گے، وسائل اور ٹیکنالوجی سے مالا مال دنیا جواباً ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گی؟ اِس سے اُنہیں کوئی غرض نہیں۔ وہ تو مغربی تہذیب کو نیویارک، واشنگٹن اور لندن میں لرزہ براندام کر کے اِس کے تباہ و برباد ہونے کے خواب دیکھتے اور دکھاتے رہے ہیں۔ اب اُس خواب کی تعبیر اگر ہم عامۃ المسلمین پر شاق گزر رہی ہے تو اُنہیں کیا۔ اِس سوچ کے زیرِ اثر اپنے جس بھائی سے بھی بات کریں، وہ جھٹ سے یہ شعر........

© Daily Jang