We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

وقت وقت کی بات ہے

14 83 0
05.05.2019

’’این آر او (NRO) دیا تو غدار ہوں گا‘‘، وزیراعظم عمران خان کا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی میں اعلان۔ غداری کے مرتکب تو وزیراعظم تبھی ہو سکتے ہیں جب اُنہیں آئین و قانون، عدلیہ اور نیب سے بالا بالا ایسا کرنے کا اختیار ہو۔ ایسے اختیار کا اظہار سارے آئینی اداروں کی اخلاقی حیثیت پر سوال اُٹھاتا ہے کہ احتساب تو فقط سیاسی ڈھکوسلہ ہے۔ جب چاہے آزما لو، جب چاہے ہٹا لو۔ ایسا بعید القیاس اس لیے بھی نہیں کہ پاکستان کی کِرم خوردہ تاریخ میں ایسا بار ہا ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کے ڈیل اور ڈھیل کے افواہ سازوں کو دندان شکن جواب کے بعد اتفاق سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک علاج کی درخواستوں کی سپریم کورٹ میں شنوائی تھی۔ اگر ضمانت مل جاتی تو بیچارے وزیراعظم کے کرپٹ لوگوں کو انجام تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ کیا بیتتی؟ اور اگر ضمانت میں توسیع نہ ملتی تو پھر کیا کہا جاتا؟ بہرکیف، سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت میں توسیع نہ ملنے پر سابق وزیراعظم پھر سے 7مئی کو پیا گھر (جیل) سدھاریں گے، جو سیاستدانوں کے لیے ہمیشہ سے دوسرا گھر رہا ہے۔ جانے مسلم لیگ نواز کی قیادت پر کیا قیامت آن پڑی ہے کہ چند ماہ کی اسیری اتنی بھاری پڑ رہی ہے۔ بڑے میاں صاحب کی طبی دیکھ بھال جیل میں ہو سکتی ہے اور علاج مقامی ہسپتالوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اُن کے مقدمات کو کسی........

© Daily Jang