We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایک بڑا گلوکار، ایک سریلا دور

5 3 0
26.04.2019

پچھلے دنوں احمد رُشدی کی برسی تھی، بہت یاد آئے۔ ایک وہی نہیں بلکہ وہ دن بھی یاد آئے جب کراچی کے واحد فلم اسٹوڈیو، ایسٹرن فلم اسٹوڈیو میں ایک میلہ سا لگا رہتا تھا اور کس کمال کی فلمیں بن رہی تھیں کہ لاہور پیچھے رہا جا رہا تھا مگر وقت کا عجب معاملہ ہے۔ کچھ یوں آنکھیں پھیر لیتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ احمد رُشدی کا تعلق اُن باکمال اور بے مثال ہنر مندوں سے تھا جو حیدرآباد دکن سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ اُن میں سے کچھ حیدرآباد سندھ میں آباد ہوئے باقی نے کراچی کو آباد کیا اور آباد ہی نہیں کیا، ملک کے اِس گوشے کو کہ کراچی کہیں جسے اپنے کمالات سے وہ رونق بخشی کہ ویسے دن پھر کبھی نہیں آئے پلٹ کر۔ اِن احباب کو ڈرامہ، موسیقی اور براڈ کاسٹنگ جیسے شوبز کے سارے ہی ہنر خوب خوب آتے تھے۔ اُس وقت ٹیلی وژن تو تھا نہیں، اُن فنکاروں نے ریڈیو کا رخ کیا اور براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں دھوم مچائی۔ اُس وقت ریڈیو پاکستان کو لا جواب آوازیں ملیں۔ اُنہی میں ایک آواز احمد رُشدی مرحوم کی تھی۔ جس پروگرام کے ذریعے وہ دنیا کی نگاہوں میں آئے، میرا خیال ہے بچوں کا پروگرام تھا۔ اُن دنوں ہم ایک گانا سنا کرتے تھے جو الف زبر آ، الف زیر اے، الف پیش او۔ بے زبر با، بے زیر بے، بے پیش بو سے شروع ہوتا........

© Daily Jang