We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

معاشی ناکامی: ذمہ دارکا تعین ضروری

9 9 0
20.04.2019

کون نہیں جانتا کہ زندگی کی طرح اقتدار یا حکمرانی بھی عارضی چیز ہے مگر اُس کے باوجود لوگ جب کرسی پر بیٹھتے ہیں تو خود کو کم از کم تیس مار خاں ضرور سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی کا ظرف یا کمینہ پن دیکھنا ہو تو اُس کا اُس کے مخالفین کے متعلق اظہارِ خیال یا لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیجئے۔ 72سالوں میں ہم نے کئی حکومتیں آتی جاتی دیکھی ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ’بڑے پن‘ کے جو ریکارڈ ہماری موجودہ ہستیوں نے بنائے یا توڑے ہیں، وہ بے مثال ہیں۔ ہمارے ایک اور دوست ہیں جن کاا یک تھڑے سے دوسرے پر تبادلہ ہوا ہے، ماشاءاللہ اتنے ’سچیار‘ ہیں کہ ہمسائیگی میں انتخابی مہم چلانے والا مودی بھی اُن کے سامنے اپنی شکست وریخت تسلیم کر لے۔

خدا کے بندو کچھ خدا سے ڈرو، اپنا الو کو سیدھا کرنے کے لئے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر کیوں رسوا و ذلیل کر رہے ہو۔ کونسی تبدیلی؟ کہاں کی ایمانداری؟ کیسا انقلاب؟ وفا کیسی؟ کہاں کا عشق؟ جب سر پھوڑنا ٹھہرا ... تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو؟۔ وہ مسکین ومظلوم اور سیدھا آدمی درست کہتا تھا کہ میرا رولا آپ لوگوں سے نہیں ہے، تنازع تو کسی اور سے ہے۔ آپ لوگ تو خواہ مخواہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے بنے بیٹھے ہو۔ کیا اب بھی کوئی ثبوت چاہئے؟ ایک دن پہلے تک سب کچھ نارمل تھا۔ قومی معیشت کی ڈوبتی کشتی تیرتی دکھائی جا رہی تھی۔ معیشت سنوارنے ہی کے نہیں ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے سہانے سپنے دکھائے جا رہے تھے، پھر........

© Daily Jang