We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

آندھی آئی، قیامت بھی آسکتی تھی

12 5 0
19.04.2019

اِن دنوں جب ہر طرف طوفان باد و باراں ہے، گوجرانوالہ کے بزرگ میر عطا محمد مرحوم بہت یاد آرہے ہیں جواس روز مجھ سے باتیں کررہے تھے اور گزرے ہوئے زمانے کو مسلسل ہمارا زمانہ کہتے جاتے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے زمانے میں لوگوں کا آپس میں ملنا جلنا کیسا تھا۔ کہنے لگے’ نہایت پیار اور محبت کے ساتھ رہتے تھے، نہ کوئی لڑائی نہ جھگڑے۔اُس وقت حال یہ تھا کہ اگر کوئی قتل ہوگیا ہے تو آندھی آجاتی تھی۔ سب لوگ کہتے تھے کہ آج قتل ہوگیا ہے، آندھی آرہی ہے۔اب تو روزانہ کئی قتل ہوتے ہیں‘۔میر صاحب مرحوم یہ کہتے کہتے رہ گئے کہ آندھیوںنے بھی روز روز کی وارداتوں سے تنگ آکر آنا چھوڑ دیا ہے۔ہم بھی اوّل دن سے سنتے آئے ہیں کہ آندھی کا آنا محض موسم کی ایک شکل نہیں بلکہ موسم کی برہمی ہے۔کبھی محض خاک دھول اڑاتی آتی ہے تو کبھی رنگ بدل بدل کے نازل ہوتی ہے۔ گھر کے بزرگ بتاتے تھے کہ آندھیاں تین رنگ کی ہوتی ہیں، پیلی، کالی اور سرخ۔وہ یہ بھی بتاتے تھے کہ زرد آندھی پر کہنا چاہئے کہ خدا خیر کرے۔ آندھی سیاہ ہو تو اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور اگر سرخ آندھی ہو تو سمجھ لو کہ کوئی بڑی آفت آرہی ہے جس میں کسی کی جان محفوظ نہیں رہے گی۔ذاتی طور پر مجھے ایک بار زردآندھی کا آنا یاد ہے۔اس کےبعد بوندا باندی ہوئی تھی تو وہ بھی زرد تھی۔ گھر کی خواتین نے سر ڈھانپ کر کچھ دعائیں پڑھی........

© Daily Jang