We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

فرانس کی آگ

26 13 233
18.04.2019

فرانس کی علامت نوٹرے ڈیم کیتھڈرل کو آگ لگی تو بہت کچھ یاد آیا۔ فرانس نے دنیا کو آزادی کی نعمت سے روشناس کرایا، خیالات کی آزادی کی آگ فرانسیسی فلاسفروں کا عطیہ ہے۔ پچھلی صدی کا مفکر ژاں پال سارتر یاد آیا اور پھر ڈیگال کا ہیولا ابھرا۔ مسلم ملک الجزائر کی تحریک آزادی کی حمایت میں ژاں پال سارتر کو گرفتار کر لیا گیا ۔ڈیگال کو پتہ چلا تو اس نے بے اختیار کہا سارتر تو فرانس ہے، اسے کون قید کر سکتا ہے اور اسی وقت جیل کے دروازے کھلوا دیئے۔ آزادی کی آگ یہاں بھی سلگتی ہے مگر پاکستان میں نہ کوئی سارتر ہے اور نہ کوئی ڈیگال۔ نہ کوئی دانشور اس قدر بہادر ہے کہ اپنے نظریات کے لئے کھڑا ہو جائے اور نہ کوئی حکمران ڈیگال جیسا ہے جو مخالف رائے کا بھی احترام کرے اور اپنے مخالف کا بھی احترام کرے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک پاکستانی ادیب ژاں پال سارتر سے ملنے شانزے لیزے کے اس ریستوران جا پہنچا جہاں سارتر ہر روز اپنے دوستوں کے ساتھ محفل جماتا تھا۔ پاکستانی ادیب نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ وہ پاکستان سے آیا ہے۔ سارتر نے پاکستان کے حالات پوچھے، ادیب نے بتایا کہ جنرل ایوب ملک کے حکمران ہیں اور ان کے خلاف جمہوری تحریک بھی چل رہی ہے۔ سارتر نے اس ادیب سے پوچھا کہ تم کس جانب ہو؟ تو ادیب نے نپا تلا جواب دیا کہ وہ غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہے۔ سارتر نے فوراً کہا کہ صاف کیوں نے........

© Daily Jang