We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

دیوتا بھینٹ مانگتے ہیں!

41 93 924
17.04.2019

دیو مالائی دنیا بڑی پُراسرار اور عجیب ہوتی تھی۔ ملک میں قحط پڑ ے، بھوک اور غربت کا غلبہ ہو جائے یا پھر ملک معاشی بحران کا شکار ہو جائے تو یہ دیوتا کے ناراض ہونے کی نشانی ہوتی تھی۔ اُس کے غضب اور عذاب سے بچنے کے لئے راجے اور مہاراجے بھینٹ چڑھایا کرتے تھے جس سے عذاب وقتی طور پر ٹل جاتا تھا، رعایا بھی بھینٹ کا خون دیکھ کر کچھ عرصہ کے لئے مطمئن ہو جاتی تھی۔ یاد رکھیں کہ بھینٹ تب چڑھائی جاتی تھی جب راجہ سے کوئی بڑی غلطی سرزد ہو جاتی تھی۔ انسانی خون کی بھینٹ دراصل اس غلطی کا مداوا ہوتی تھی۔ اب دیومالائی دور تو ختم ہو چکا مگر لاڈلے راجہ کی حکومت ایسے مرحلے پر آگئی ہے کہ اسے اپنی غلطیوں کو بخشوانے کے لئے بھینٹ چڑھانا پڑے گی۔

آئی جی پولیس کی تبدیلی یا سیکرٹریوں کے تبادلوں کی چھوٹی اور ادنیٰ بھینٹ سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ اسد عمر، عثمان بزدار، محمود خان اور کئی دوسرے بڑوں کو اِدھر اُدھر کرنا پڑے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے دیوتا ناراض تھے، حفیظ پیرزادہ اور کوثر نیازی کی قربانی مانگتے تھے، بھٹو ضدی تھا، نہ مانا، اسی لئے خود نشانہ بن گیا۔ نواز شریف میں لچک تھی، اس سے نہال ہاشمی، مشاہداللہ خان، پرویز رشید، رائو تحسین اور طارق فاطمی کی بھینٹ مانگی گئی، اُس نے بادل نخواستہ وقتاً فوقتاً قربانیاں دیں مگر پھر بھی اسےمکت نصیب نہ ہوا اور بات یہاں تک پہنچی کہ بالآخر اسے خود بھی قربان ہونا پڑا۔ انگریزی ڈرامہ نگار اور آفاقی مفکر ولیم شیکسپیئر نے اسی صورت حال کے حوالے سے لکھا تھا ’’دیوتاؤں کے لئے انسان مکھیوں کی طرح ہیں، وہ کھیل ہی کھیل میں ان کا شکار کرتے رہتے ہیں‘‘۔

لاڈلے راجہ کی کشتی اب........

© Daily Jang