We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

صدارتی نظام اور ایوبی ’’ترقی‘‘ کا ماڈل

27 172 105
14.04.2019

بے موسمی مینڈک جانے کن کونوں کھدروں سے نکل کر صدارتی نظام کی ٹر ٹر کیے جا رہے ہیں اور وہ بھی اسلامی پخ لگا کر۔ عمران خان آئے تو تھے غریبوں اور امیروں کے دو پاکستانوں کی خلیج مٹانے، لیکن آج کل وہ بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کے ’’عشرہ ترقی‘‘ کے گُن گاتے نہیں تھکتے اور وہ بھی ریاستِ مدینہ کے اسلافی خوابوں کے ساتھ۔ ایسی فکری دوئی پہ کوئی سر پیٹے نہ تو کیا کرے۔ آخر فیلڈ مارشل کے آمرانہ اور انتہائی نابرابری کے دست نگر ’’معاشی ترقی‘‘ کے پٹے پٹائے ماڈل میں ایسا کیا تھا، جس کی صدارتی فیضیابیوں کے لیے اتنی تڑپ دکھائی جا رہی ہے۔ بے خبری اور ہٹ دھرمی پہ اصرار کرنے والوں کی تشفی کے لیے ہم اس ماڈل کے دونوں ستونوں یعنی صدارتی (بونا پارٹسٹ) اور ’’ترقی‘‘ (معکوس) کو الگ الگ کرکے ذرا دیکھ لیتے ہیں کہ بے چین گمراہی کو صبرِ جمیل ملے (جو مشکل ہے)۔ پہلے صدارتی نظام جو شروع میں گورنر جنرلز کی دہائی اور پھر مختلف وقفوں سے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز و صدور کی صورت میں تقریباً 45 برس چلا اور ہر بار ایک تباہی سے شروع ہو کر دوسری تباہی پہ ختم ہوا۔ خیر سے دو گورنر جنرلز کے ہاتھوں (غلام محمد اور اسکندر مرزا) چھ وزرائے اعظم گھر سدھارے۔ جب 1956 کا جمہوری و پارلیمانی آئین منظور ہو چکا اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے

عام انتخابات کو اس لیے ملتوی کر دیا گیا کہ خدشہ تھا کہ بنگالی جمہوریت پسند یا پھر وہ مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبوں کے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع البنیاد حکومت تشکیل دے دیں گے۔ صدر اسکندر مرزا نے 1958 میں جنرل ایوب (جو محمد علی بوگرہ کی حکومت کے وقت سے وزیرِ دفاع چلے آ رہے تھے) کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ لیکن چند روز بعد ہی جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو چلتا کیا اور پہلی فوجی حکومت........

© Daily Jang