We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نقل...روک سکو تو روک لو

6 7 44
12.04.2019

سنہ پچاس خاتمے کے قریب تھا، جب میں نے آخری امتحان دیا۔ اُس وقت نقل یوں ہوتی تھی کہ پڑوس میں بیٹھے لڑکے کی کاپی کو دیکھنے کی کوشش کرتے تھے، وہ بھی کن انکھیوں سے۔ اور پڑوس کا لڑکابھی کچھ ایسے بانہیں پھیلا کر بیٹھتا تھا، جیسے مرغی انڈوں پر بیٹھتی ہے۔ بڑی تعداد میں لڑکوں کی تھرڈ ڈویژن آتی تھی اور کثرت سے فیل ہوا کرتے تھے۔ لڑکیوں کا معاملہ جدا تھا، جی لگا کر پڑھتی تھیں اور اچھی پوزیشن لاتی تھیں۔ بس اتنا تھا نقل کا چلن۔ اُنہی دنوں ایک عام خیال پیدا ہوا کہ کراچی بورڈ کے پرچے مشکل ہوتے ہیں، لاہور بورڈ کے پرچے نہ صرف آسان ہوتے ہیں بلکہ لاہور والے آسانی سے پاس کر دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کراچی سے لڑکے بڑی تعداد میں لاہور جا کر امتحان دیتے اور پاس بھی ہوتے تھے۔ ایسے پاس ہونے والوں کو کہا جاتا تھا کہ ’وایا بھٹنڈا‘ پاس ہوئے ہیں۔ آج کوئی یقین نہیں کرے گا۔ لاہور کے میٹرک امتحان کے بارے میں یہ خیال قیامِ پاکستان سے پہلے بھی تھا اور اتنا پختہ تھا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لڑکے امتحان دینے لاہور پہنچا کرتے تھے۔ ان دنوں دلّی سے لاہور جانے والی ریل گاڑی جنوبی پنجاب کے جس اسٹیشن کے راستے چلتی تھی، اس کا نام بھٹنڈا تھا۔ چنانچہ یہ ’وایا بھٹنڈا‘ کی اصطلاح کا چلن آزادی سے پہلے سے تھا۔ وہ ریلوے لائن اب بھی موجود ہے، البتہ پاکستان والوں نے اس کا استعمال ترک کر دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب پاکستان کے امتحانوں میں پاس ہونا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ بھٹنڈا والی لائن پر پسنجر ملنا بند ہو گئے ہیں اور........

© Daily Jang