We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اپوزیشن حکومت گرانے سے باز رہے

7 1 29
06.04.2019

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو چالیس برس بیت گئے مگر اُس پھانسی کو ’’عدالتی قتل‘‘ کہنے والوں کی آواز بجائے کمزور ہونے کے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بھٹو مرحوم کی سیاست میں اہمیت سے انکار پہلے تھا نہ اب ہے، اِسی طرح اُن کے طرزِ سیاست سے اختلاف کرنے والوں کی کمی پہلے تھی نہ اب ہے۔ ایسا دور بھی رہا ہے، جب ہماری قومی سیاست بھٹو اور اینٹی بھٹو کے گرداب میں گھومتی رہی۔ بھٹو کی سیاسی قد آوری میں جتنا رول اُن کی پھانسی کے متنازع فیصلے کا رہا، اُس سے کہیں زیادہ اُن کی پُر عزم بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی بھرپور اور ولولہ انگیز جمہوری جدوجہد کا ہے۔ ہمیں بھٹو کی سیاست سے ان گنت شکایات ہو سکتی ہیں مگر اُنہیں جس بے رحمانہ طریقے سے پھانسی پر لٹکایا گیا، اُس سے ایک نوع کی ہمدردی ازخود پیدا ہو جاتی ہے۔ بہرحال اب ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ عوامی عدالت سے سرخرو ہوئے۔ عوامی لیڈر کا یہی اصل اثاثہ ہے، اس کی یاد گزشتہ چار دہائیوں سے گڑھی خدا بخش میں پیہم منائی جا رہی ہے۔ ماقبل یہ فریضہ اُن کی سیاسی جانشین محترمہ بے نظیر بھٹو ادا کیا کرتی تھیں، اب محترمہ کے فرزند بلاول بھٹو ادا کر رہے ہیں۔

اِس سال بلاول بھٹو اور اُن کے والد کی تقاریر........

© Daily Jang