We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

یومِ پاکستان اور قراردادِ لاہور کی موہوم یاد

10 0 4
24.03.2019

23 مارچ 1940 کے عہد ساز اعلامیے کی یاد میں ڈوبا، جب میں یہ تحریر رقم کر رہا ہوں تو ٹیلی وژن پہ یومِ پاکستان کی عظیم الشان پریڈ کی گھن گرج قومی سلامتی کی یقین دہانی کرا رہی ہے۔ قوم بھی اِس عسکری جاہ و جلال پہ مسرور ہے کہ اب بیرونی خطرے کی (ماسوا باہمی یقینی ایٹمی تباہی کے) کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کاش! جس طرح بیرونی خطرات سے نپٹنے کا مؤثر بندوبست کیا گیا ہے، اندرونی سلامتی اور انسانی سلامتی کے لیے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی جاتی۔ لیکن، چوپڑیاں اور وہ بھی دو دو، ہماری قسمت میں کہاں؟ مملکتِ خداداد کی بس یہی استعداد تھی کہ یہ اپنی بیرونی سلامتی کو یقینی بنائے۔ اب اندرونی اور انسانی سلامتی کی طرف پلٹنے کا وقت ہے اور اس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ سامانِ حرب سےبھوکے لوگوں کے شکم بھرنے سے رہے، بیماروں کو علاج ملنے سے رہا، بیروزگاروں کو روزگار میسر ہونے سے رہا اور ناخواندہ بچوں کو تعلیم ملنے سے رہی۔ اِس بار یومِ پاکستان پر ملائشیا کے بزرگ وزیراعظم مہاتیر محمد مہمانِ خصوصی تھے۔ معزز مہمان نے ہمیں یہ جتلایا کہ ملائشیا ایک تجارتی قوم ہے جس کی کسی سے دشمنی نہیں اور اسے فکر ہے تو اپنی معاشی ترقی اور اپنے لوگوں کی خوشحالی کی۔ اُنہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تحفہ دیا بھی تو میڈ اِن ملائشیا کار کا جس کی پیداوار اب پاکستان میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ مطلب یہ کہ اصل میں تجارتی تعلقات ہی ہیں جو اہم ہیں، باقی سب بہلاوے ہیں۔

یومِ پاکستان سے چند روز قبل نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں ایک درندہ صفت نسل پرست دہشت گرد نے جو خون کی ہولی کھیلی تھی، اُس پہ جو صفِ ماتم........

© Daily Jang