We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

دہشت کا کوئی دین، نسل اور نام نہیں

12 11 18
17.03.2019

لکھنا تو چاہتا تھا عورتوں کے مارچ پہ جاری رقیق حملوں کی پدر شاہانہ منافقت پر، یا پھر کرتارپور راہداری پہ امن و محبت کے راستے کھلنے کی اُمید پر، مگر نیوزی لینڈ جیسے انسان دوست ملک میں دو مساجد پر دہشت گرد حملے اور انسانیت کُشی نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ فسطائی، سادیتی، نسلی، مذہبی اور نفرت پر مبنی اندھے اور خوفناک جذبات اور نظریات کیا کیا خون آشام مناظر بپا کر سکتے ہیں، تاریخ اُن سے بھری پڑی ہے۔ یہی گزشتہ جمعہ کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہوا۔ آسٹریلوی دہشت گرد نے اللہ کے حضور سربسجود لوگوں کو ابدی نیند سُلا دیا۔ قریب ہی بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جان بچا کر بھاگ نکلے، لیکن وہ خاتون جو زخمی حالت میں مدد کو پکار رہی تھی کو موت کے سوداگر نے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔اور دہشت گردوں کی طرح، برینٹ ٹیرنٹ کا بھی ایک نفرت انگیز منشور تھا اور اُس کے بھی درندہ صفت ہیرو تھے اور کچھ تاریخی حوالے۔ پیٹرسن جس نے دو مہاجر بچوں کو سویڈن میں قتل کیا، بیسونیٹ جس نے کینیڈا میں چھ نمازیوں کو قتل کیا، البانیہ کا سکندر برگ جس نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ کی، بریگیڈن جس نے ترک مغویوں کو قتل کیا۔ چارلس مارٹل جس نے معرکہ بلاط الشہدا میں مسلمانوں کو شکست دی۔ ویانا جس کا خلافتِ عثمانیہ نے آخری بار محاصرہ کیا۔ یہ تھے اُس کے ہیروز اور تاریخی میلانات جو اُس کی بندوق پہ تحریر تھے۔

دہشت گرد نسل پرست فسطائی اور دہشت گرد نظریات کے ہاتھوں اندھا ہو کر تارکینِ وطن اور رنگدار مسلمانوں سے انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔ وہ پیداوار ہے مغرب میں پھر سے اُبھرنے والی فسطائی اور نسل پرست لہر کا جسے اسلامی بخار یا فوبیا کہا جاتا ہے۔ وہ امریکہ میں اُبھری سفید........

© Daily Jang