We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بلاول نواز ملاقات اور میثاقِ جمہوریت

9 8 75
14.03.2019

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

فیضؔ کا یہ شعر کسی اور پر منطبق آتا ہے یا نہیں ہماری پولیٹکل ویلیج لائف پر ضرور موزوں بیٹھتا ہے۔ گاؤں کے چوہدری کا اعلان تھا کہ میری خوشنودی کیلئے دھینگا مشتی کرو گے تو الٹی بھی سیدھی ہو جائے گی لیکن اگر اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر کوئی سیدھی حرکت بھی کی تو الٹے یا سیدھے کر دئیے جاؤ گے۔ اس گاؤں میں ایک تھی بی بی اور ایک تھا میاں۔ 90ء کی دہائی میں ان دونوں کو پیہم اس طرح لڑایا گیا جس طرح کبھی لکھنؤ کے نواب اپنے مرغوں کو لڑاتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ یہ نادان تاحیات ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے رہیں گے۔ انسان اگر ہلکے مفادات کی خاطر کچھ دیر کے لیے شعوری آنکھیں موند لے تو الگ بات ہے ورنہ تلخ حقائق و تجربات اُسے وہ کچھ سکھلا دیتے ہیں جو آکسفورڈ یا ہاؤرڈ بھی سکھلانے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔ کچھ ایسے ہی تھپیڑے کھانے کے بعد باہم برسرِ پیکار میاں اور بی بی نے شعور کی رہنمائی میں بہن بھائی بننے کا فیصلہ کر لیا، جس کا فوری ثمر ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ جیسی وہ دستاویز تھی کہ سویلین اتھارٹی پر ایمان رکھنے والوں کے لیے اس کا تقدس کسی طرح بھی قومی دستور سے کم نہ تھا۔ پھر کیا ہوا کہ اس نڈر و بے باک بی بی کا کام تمام کروا دیا گیا۔ بی بی کیا گئی کہ رُت ہی بدل گئی۔ سول رائٹس پر ایمان رکھنے والوں کے لیے........

© Daily Jang