We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اگر وہ مرگیا تو؟

15 108 637
11.03.2019

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، کسی نے آج تو کسی نے کل جانا ہے، میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ جیل میں مرگیا تو کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ نہ ہمالہ روئے گا اور نہ وہ قومی اعزاز کیساتھ دفن ہوگا مگر قوم کی زخمی روح کو ایک گھائو اور ضرور لگے گا، بھٹو کو جیل میں سزائے موت ملی تو اس قومی جرم کا خراج 9سال کی وفاقی حکومت اور 20سال کی سندھ حکومت میں ابھی تک ادا کیا جارہا ہے مگر خون کے دھبے مٹ نہیں پارہے، وہ نپولین بونا پورٹ نہیں ہے کہ جیل میں بیماریوں کا علاج نہ ہونے پر پراسرار موت مرا تو فرانسیسی قوم کو اس وقت تک چین نہ ملا جب کئی دہائیوں بعد تک اس کو پیرس میں لاکر دفن نہ کیا گیا۔ برصغیر کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر رنگون میں جلا وطنی اور نظر بندی کے دوران مرگئے ، کہاجاتا ہے کہ ایک وجہ زہر خورانی بھی تھی۔ نہ فرانس میں نپولین کی موت آج تک تاریخ کے صفحات سے غائب ہوئی ہے اور نہ بہادر شاہ کا المناک سانحہ برصغیر کے لوگوں کے ذہنوں سے ابھی تک محو ہوا ہے۔ وہ بھی جیل میں مرا تو مرے گا نہیں، قتل ہوگا اور سیاسی قتل اس شخص کو زندہ رکھتے ہیں۔ بھٹو اور بینظیر قتل ہو کر کیا مرگئے؟ وہ آج تک زندہ ہیں اور آئندہ بھی جو اس طریقے سے مارا جائے گا وہ سیاسی شہید ہی ٹھہرے گا۔

عدالتی فیصلے نے سقراط کو مجرم قرار دیا اور قوم کے ذہن بگاڑنے پر زہر کا پیالہ پینے کی سزا دی۔ بھٹو کو عدالتی فیصلے نے قاتل قرار دیتے ہوے پھانسی پر لٹکا دیا۔ بینظیر بھٹو کو ایک عدالت نے نااہل قرار دے دیا، جائیداد ضبط کرلی اور تو اور آصف زرداری 9سال جیل میں رہے مگر بعد میں ملک کے صدر بن گئے، اسی طرح سقراط، بھٹو اور بینظیر کے خلاف فیصلوںکو کبھی عوامی پذیرائی نہیں ملی، تاریخ نے ان........

© Daily Jang