We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جنگ تو ٹل گئی مگر خطرہ موجود ہے!

7 6 23
10.03.2019

برصغیر وہ خطہ ہے جہاں جنگ کے بادل کبھی بھی آ سکتے ہیں۔ موسمی بھی اور بے موسمی بھی۔ سُکھ کا سانس ملا بھی ہے تو خدشہ ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں۔ ایسی بے یقینی میں کوئی بھی خطہ کیا ترقی کر سکتا ہے اور جنتا کو کیسے میٹھی نیند آ سکتی ہے؟ عالمی ذرائع ابلاغ حالیہ جنگی ٹریلر پر پھبتیاں کستے ہوئے، کسی بھی واقعہ پر برصغیر میں نیوکلیئر جنگ کے امکان پر مضطرب نظر آتے ہیں۔ 26، 27، 28 فروری کو جنگ کی آگ علاقائی حدود کی خلاف ورزیوں کو پھلانگتے ہوئے جانے کیا سے کیا صورت اختیار کر سکتی تھی۔ اس کا اُنہیں خوب پتہ ہے جن کے ہاتھ بندوق کی لبلبی پہ تھے۔ اب کہ پھر عالمی برادری کی بھرپور مداخلت کام آئی، اپنوں کی بھی اور غیروں کی بھی۔ لیکن کب تک؟ اس بار سرحدیں پھلانگی گئی ہیں، لیکن ایک حد میں رہتے ہوئے۔ دونوں طرف کے سپہ سالاروں کو معلوم تھا کہ وہ کس حد تک وار گیم کھیل سکتے ہیں۔ خاص طور پر جنرل باجوہ اپنی جنگ کو نہ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر مستحکم رہے اور یہی ایک آزمودہ اور سنجیدہ جرنیل کی نشانی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت بھی سیاسی قیادت اور آگ بگولہ ہوئے میڈیا کی انگیخت میں نہیں آئی اور معاملہ سرحدی ٹھوں ٹھاں پہ ٹل گیا۔ جو سوچنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ایک ’’فدائی‘‘ یا گروپ ایک اشتعال انگیز کارروائی سے دو نیوکلیئر طاقتوں کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے، خواہ اُکسانے والا اِدھر ہو یا اُدھر۔ ایسے میں جب کشمیر میں عوامی جذبات بہت بھڑکے ہوئے ہیں اور نوجوان غضبناک غصے میں ہیں تو کبھی بھی اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کشمیر کے........

© Daily Jang