We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

میں نے تین جنگیں دیکھیں

11 3 59
01.03.2019

جنگ کسی سے بھی ہو، پلّہ کسی کا بھی بھاری ہو، اندر ایک عجب سا خلفشار رہتا ہے۔جنگ کے دنوں کا احساس زندگی کے تمام دنوں سے الگ، مختلف اور جدا ہوتا ہے۔ کچھ بے چینی، کچھ خوف اور اندیشے اور سب سے بڑھ کر شدید بے یقینی۔یہ سب میں یوں کہہ رہا ہو ں کہ اسّی بیاسی برس کی زندگی کے دوران میں نے تین بھرپور جنگیں اور کتنی ہی خوں ریزیاں دیکھی ہیں۔انسان بھی عجب مخلوق ہے، جانتا ہے کہ جنگ اپنے ساتھ کیسے کیسے عذاب لاتی ہے پھر بھی لڑتاہے، جھگڑتا ہے، تباہی لاتا ہے، بربادی کے اسباب پیدا کرتا ہے، جانتا ہے کہ عورتیں لُٹیں گی اور بچے دربدر ہوں گے پھر بھی بات بات پر مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتاہے۔ یہی نہیں، ساتھ ساتھ کہتا جاتا ہے کہ لڑنا بری بات ہے اور جنگ سے نفرت، امن سے محبت کے ایسے نعرے لگاتا ہے کہ صاف کھوکھلے نظر آتے ہیں۔

میں نے جب سنہ تیس کے آخری برسوں میں ہوش سنبھالا، دوسر ی عالمی جنگ اپنے شباب پر تھی۔ میرے والد دنیا بھر کی نشر گاہوں کی خبریں سنتے اور رات کو سونے سے پہلے میری والدہ کو دنیا کے ہر محاذ کے حالات سناتے تھے۔کیا یورپ اور کیا افریقہ، والدہ خبریں سنتی جاتی تھیں اور مسلسل ہوں ہوں کئے جاتی تھیں۔میں، ایک نو عمر لڑکا صاف محسوس کرتا تھا کہ معاملہ کچھ بے ڈھب ہے، کہیں کچھ ہورہا ہے یا ہونے کو ہے، یعنی لڑائی کے شعلے ہندوستان کی طرف چلے آرہے ہیں۔ اُس وقت........

© Daily Jang