We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پاکستان اور بھارت:دشمن کو پہچانیں؟

4 3 36
23.02.2019

آج ارادہ تو سعودی شہزادے کے دورہ پاک و ہند پر لکھنے کا تھا مگر اس خطے میں ایک مرتبہ پھر نفرت اور جنونیت کی جو آندھی اٹھی ہے وہ مجبور کر رہی ہے کہ اس کی جڑوں تک پہنچا جائے۔ اس مردم خیز اور زرخیز سر زمین کی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں انسانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے دربدر بھٹکانے اور ذلت کی موت مروانے کے باوجود جنونیت کا طوفان تھم نہیں سکا ۔ سیانے کہتے ہیں برُے تجربے نہ کرو، مشاہدے کر لو۔ آج کے جاپان اور یورپ کو دیکھ لو، آج کا جاپانی ایٹم کے نام سے بھی خوفزدہ ہے۔ آج کا یورپ جنگی جنون سے اس قدر الرجک ہے کہ جرمنی اور فرانس جیسے ازلی ہمسایہ دشمنوں نے اپنے بارڈر کی جان نکال دی ہے۔ شہریوں کو پتا ہی نہیں چلتا، وہ کب جرمنی سے فرانس میں داخل ہو گئے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے کیا یہ ضروری ہے کہ ہم بھی ویسے ہی آگ اور خون کے دریا عبور کریں، انسانی بربادیوں کا بیوپار کریں۔ اس کے بعد بھی کیا گارنٹی ہے کہ ہماری منتقم مزاجی مزید نسلوں کو بربادیوں کی بھینٹ چڑھانے کا تقاضا نہیں کرے گی؟

سبق سیکھنے کیلئے کیا تقسیم کے وقت کی تباہ کاریاں کافی نہیں تھیں؟ کیا 65ء،71ء اور کارگل کی معرکہ آرائیاں جو ’’ثمرات‘‘ دے کر گئی ہیں سمجھنے کے لیے ان پر گزارا نہیں کیا جا سکتا؟ جس چمنستان کی ڈال ڈال پر کبھی سونے کی چڑیاں چہچہاتی تھیں۔اقبال کے الفاظ میں ’’چشتی نے جس زمیں میں پیغامِ حق سنایا، نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا ، تاتاریوں نے جس کواپنا وطن بنایا، جس نے حجازیوں سے دشتِ عرب چھڑایا،........

© Daily Jang