We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

رمشا وسان کا قتل اورٖ وڈیرانہ سیاست

9 7 35
22.02.2019

تیرہ سال کی بچی اغوا ہوئی سات دن تک غائب رہی ، پھر جب لوٹی تو اسے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے اس معصوم بچی کے قتل کو “غیرت کے نام پر قتل” قرار دیکر خود ہی اپنی طرف سے ایف آئی آر کاٹ لی۔ قاتل پانچ دن تک گرفتار نہیں کیا کیونکہ قاتل سندھ میں حکمران پارٹی کے سابق وزیر اور مشیر کا رشتے میں کزن بنتا ہے۔ یہ سندھ ہے جسے گیدڑ کب کا کھا چکے ہیں۔ بالکل اس مقولے کے برعکس کہ ابھی سندھ گیدڑوں نے نہیں کھایا۔

یہ مقتولہ معصومہ تیرہ سالہ بچی رمشا وسان، چھٹی جماعت کی طالبہ خیرپور میرس ضلع میں کوٹڈجی تحصیل کے علاقے کنب کے نزدیکی گائوں پیر بڈھو وسان کی رہنے والی تھی۔ انتہائی مسکین ماں باپ کی بیٹی۔ اس بچی کا قصور یہ تھا کہ وہ چند جماعتیں پڑھ لکھ کر سوال کرنے لگی تھی وڈیروں کی وڈیرہ شاہی پر، بچیوں کیلئے جرگوں پر، بچیوں کے اپنے مستقبل پر اپنی مرضی اور مالکی پر۔

یہ بات وڈیروں تک پہنچی۔ سندھ میں وڈیرے ظالمان کی صدیوں پرانی شکل ہیں۔ رمشا وسان کو علاقے کا بدنام ترین پیشہ ور قاتل اور ڈاکو ذوالفقار وسان اپنے ٹولے کے ہمراہ ہتھیاروں اور دہشت کے زور پر اغوا کر کے لے گیا۔ علاقے کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ رمشا کو ذلو عرف ذوالفقار ڈاکو نے اغوا کیا۔ یہ بھی بچے بچے کو معلوم ہے کہ ذوالفقار وسان سندھ میں پی پی پی کے سابق وزیر اور ان کے بھائی اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر کا قریبی عزیز ہے بلکہ انکا وفادار ہے۔ بڑے........

© Daily Jang